خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 719 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 719

خطبات طاہر جلد 15 719 خطبہ جمعہ 13 استمبر 1996ء اچانک وقت آتا ہے تو ان کا کیا کرایا سب بھوسہ بن جاتا ہے اور نہ آخرت کے لئے تیار رہتے ہیں اور آخرت میں جب حاضری کا وقت آتا ہے تو بے سر و سامان بغیر کسی تیاری کے اسی طرح حاضر ہو جاتے ہیں تبھی آنحضرت ﷺ نے ذہنی طور پر تیاری کا حکم دیا۔ صلى الله ایک شخص نے قیامت کے متعلق عرض کیا یا رسول الله ﷺ قیامت کب ہوگی ؟ آپ نے فرمایا پوچھتے ہو، تیاری بھی کی ہے؟ اگر ہو بھی اور تیاری نہیں کی تو تمہیں اس سے کیا کب ہوگی ۔ چھوٹی سی بات میں دیکھیں کتنی عظیم نصیحت فرمادی ہے۔ قیامت ہوگی ضرور ۔ کب کا سوال تب ہوا گر تم تیار رہو کیونکہ تمہاری قیامت آج بھی آسکتی ہے، ہر لمحہ آسکتی ہے اور تیاری سے مراد ہے کہ ہر لمحہ تیار رہو اگر ہر لمحہ تیار ہو تو پھر پوچھو بے شک کہ کب ہوگی ۔ وہ اب ہوگی یا کل ہو گی تم ہر حالت میں مطمئن رہو کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ تم نجات یافتہ حالت میں دنیا سے رخصت ہو گے لیکن اگر تیاری کوئی نہیں کی ہوئی تو پھر کیا فائدہ؟ پس جماعت کو ہمیشہ اس بات کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ہمارے بہت سے الجھے ہوئے اخلاقی معاملات اس شعور کی کمی د کی وجہ سے ہیں کہ ہم دنیا میں گویا آ کر ٹھہر جانے کے لئے آئے ہیں ۔ تمام دنیا کی حکمتوں کی بد چلنیاں اور ظلم و ستم اس احساس اور شعور کی کمی کی وجہ سے ہیں مگر دنیا کی حکومتوں کو تو بعض دفعہ یا حکومت والوں کو بعض دفعہ بار بار کی ٹھوکروں سے کچھ تجربہ ہو جاتا ہے کئی ایسے وزیر ہیں جو بے چارے اترنے کے بعد گلیوں میں چلتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں تو ان کا بے حیثیت ہونا، ان کا بے اختیار ہونا نہ صرف دکھائی دیتا ہے بلکہ باتوں میں بتاتے بھی ہیں کہ جی کل تک تو ہمارا یہ حال تھا آج ہمارا یہ حال ہے۔ ایک صاحب ایک دفعہ مجھے اسٹیشن پر ملے تھے اچھے معزز عہدوں پر فائز ، ان سے میری گفتگو ہوئی میرے وہ احمدی دوست نہیں باہر کے کوئی تھے وہ کہتے کیا حال پوچھتے ہیں آپ پہلے بڑے بڑے سلام کیا کرتے تھے جھک کے اب ہمارا چپڑاسی بھی ملے تو نظر ادھر ادھر پھیر لیتا ہے کہ مجھے کوئی کام نہ بتادیں۔ دنیا کی بے ثباتی کا کچھ ذاتی احساس بڑے لوگوں کو دنیا میں ہوتا رہتا ہے لیکن جو خدا تعالیٰ کے حضور اعمال پیش کرنے کا مضمون ہے اس میں بسا اوقات یہ احساس پیدا ہی نہیں ہوتا۔ اس وقت شعور آتا ہے جب کہ وقت ہاتھ سے گزر چکا ہے اور پھر آدمی کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ پس بے ثباتی کا مضمون آپ کے اعمال کی نگرانی کے لئے ضروری ہے لیکن اگر مرنے کے بعد جی اٹھنے کا مضمون ساتھ نہ ہو تو پھر بے ثباتی بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی بلکہ بعض بے ثباتی گناہ