خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 31
خطبات طاہر جلد 15 31 خطبہ جمعہ 12 جنوری 1996ء ہے؟ لیکن کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جب تک ان گائیڈ ز Guides کو لے کر ساتھ نہ چلیں جو کسی نئے ملک کے سفر میں آپ کی راہنمائی کرتے ہیں کہ کیا دیکھنا اور کن خطروں سے بچنا، نہ انسان خطروں سے بچ کر واپس آسکتا ہے نہ ان مناظر کے حسن سے صحیح لطف اندوز ہو سکتا ہے۔ تو قرآن کریم میں جس رسول ﷺ کا تعارف فرمایا گیا ہے وہ، وہ نور ہے جس نے ہر چیز کی تفصیل بیان کر دی ہے، ہر خطرے سے آگاہ کر دیا ہے۔ بات کھولتا ہے پھر گردنوں کے طوق اتارتا ہے پھر کہتا ہے آؤ میرے پیچھے چلو جس راہ پر میں چلوں گاوہ سلامتی کی راہ ہوگی اور یہ راہ ایک ہی طرف چلتی ہے۔ جس طرف سے بھی آ میرے پیچھے لگو گے تولا ز ناصراط مستقیم پر پہنچو گے اورصراط مستقیم وہ ہے جونور کا سفر ہے۔ تو نور پر سے پہلے اندھیروں سے نجات ضروری ہے اور اندھیروں سے بیک وقت نجات ضروری نہیں بلکہ کوشش فرض ہے پھر اگر آنحضرت ﷺ سے استفادہ کرو گے تو ہر اندھیرے سے نکلنے کی ایک راہ آپ بتائیں گے۔ اس راہ پر چلو اس حد تک تم سلامتی کی راہ پر چل رہے ہو گے۔ پھر ایک اور گے وہ بھی سلامتی کی راہ ہوگی یہاں تک کہ اپنے نفس کا جتنا گہرائی سے جائزہ لو گے ، جتنا اپنے اندھیروں سے ، اپنی ذات کے اندھیروں سے آگاہ ہوتے چلے جاؤ گے اتنا ہی حضرت محمد رسول اللہ کی ضرورت تم پر روشن ہوتی چلی جائے گی اور کوئی بھی الجھن ایسی نہیں ہے جس کا حل حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے پیش نہ فرما دیا ہو کیونکہ فرمایا : وَ يُخْرِجُهُمْ مِّنَ الظُّلُمَتِ إِلَى النُّوْرِ باذنہ ہر قسم کی ظلمات سے وہ اللہ کے حکم سے ان کو نکالتا چلا جاتا ہے وَيَهْدِيهِمْ إِلَى صِرَاطٍ مستقیم اور انہیں صراط مستقیم کی طرف ہدایت دیتا ہے۔ اس مضمون کی تفصیل بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَالَّذِينَ آمَنُوا امَنُوابِه بِهِ وَعَزَّرُوهُ وَنَصَرُوهُ پس وہ لوگ جو اس رسول پر ایمان لے آئے جس پر ایمان لانے کی اہل کتاب کو اور ان کے حوالے سے سب دنیا کو دعوت دی گئی تھی وَعَزَّ رُوہ اور اس کو طاقت پہنچائی ۔ اب ایمان لانا کافی نہیں ہے جب تک اس رسول کو تقویت نہ پہنچائیں جس نے سب دنیا کا بوجھ اٹھایا ہوا ہے۔ اس کو مددگاروں کی ضرورت ہے اس کو ایسے ہی اور وجودوں کی ضرورت ہے جو اس ہوا کے پیچھے چل کر محض اپنی نجات پر مطمئن نہ ہوں بلکہ اسی کے رنگ میں رنگین ہو کر تمام بنی نوع انسان کی