خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 286 of 1078

خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 286

خطبات طاہر جلد 15 286 خطبہ جمعہ مورخہ 12 را پریل 1996ء پر ظلم ہو رہے ہیں، معصوم انسانوں کو شہوت کا شکار بنا کر اور ذبح کر دیا جاتا ہے چھوٹے چھوٹے بچوں کو اور اتنے دردناک واقعات ہوتے ہیں کہ انسان تصور بھی نہیں کر سکتا کہ کوئی قوم ذلت کی اس انتہاء کو پہنچ سکتی ہے جہاں کوئی جانور دنیا کا ایسی کمینگی نہیں دکھا سکتا جتنا انسان دکھاتا ہے۔ اس لئے کہ اس نے امرالہی میں آنکھ کھولی اور امر الہی سے انکار کر دیا۔ پھر اسفل سافلین اس کا مقدر ہو گیا اور خدا کی یہ بات ضرور پوری ہونی تھی کہ ہم نے تمہیں بڑے کاموں کے لئے بنایا تھا مسلسل لا متناہی ترقی کے لئے پیدا کیا تھا اور یہ ایسا سفر ہے جو اندھیروں سے روشنی کی طرف سفر ہے اور نہ اندھیروں کی کوئی انتہا ہے، نہ روشنی کی کوئی انتہا ہے۔ اگر تم اس سفر پہ جاری نہ رہے تو تمہارا رخ واپسی کی طرف پلٹے گا۔ ہر اس اندھیرے میں واپس جاؤ گے جس سے نکل کر تم روشنی کی طرف آئے تھے۔ پس اب جو انسانی شہوات کی دنیا ہے قرآن کریم نے اس میں جو دوسری مثال دی ہے اس میں لہو و لعب کو پیش کیا ہے اندھیروں کی ایک شکل میں ۔ اب لہو ولعب میں انسان کو جنسی خواہشات، اس کے عیش و عشرت کے سامان کی تمنا ، اس کا دل بہلاوے کے سامان کرنا خواہ جنسی نہ بھی ہوں یہ ساری چیزیں اس دائرے میں آتی ہیں۔ جو لوگ اپنے نفس کو خدا بناتے ہیں ان کا خدا ان کو ان ساری چیزوں میں مبتلا رکھتا ہے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بے شمار ایسے احتمالات ہیں جو اس کے ہے! سامنے جگہ جگہ سے اٹھتے رہتے ہیں ۔ وہ ہر احتمال گویا ایک فرضی بت ہے جو اس کے سامنے اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ ایک انسان کہتا ہے کہ میں اس معاملے میں اگر صحیح راہ اختیار کروں تو میرے ہاتھ میں ایک آئی ہوئی چیز ہے مگر مجھے حق نہیں ہے اس لئے کہ میرا معبود اور ہے اس نے اجازت نہیں دی میں اس پر ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ یہ ایک خیال ہے جو اس کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔ اس کے مقابل پر نفس کا شیطان اٹھ کھڑا ہوتا ہے کہ تم نے کس کو معبود بنا لیا ہے میں تمہارا معبود ہوں اس لئے جو ہاتھ میں ہے اسے استعمال کر و قطع نظر اس کے کہ خدا کیا چاہتا ہے۔ تو ایک خدا کو چھوڑ کر دوسرے خدا کے سامنے سر جھکانا پڑا اور یہ وہ خدا ہے جو ہمیشہ دھوکہ دیتا ہے اور اس کے امر کے نتیجے میں کبھی بھی فائدہ نصیب نہیں ہوا اور جب اس پیروی کے نتیجے میں انسان دکھوں میں مبتلا ہوتا ہے تو لوٹتا خدا ہی کی طرف ہے مدد کے لئے ۔ اس وقت شیطان یعنی اس کے نفس کا شیطان کہتا ہے کہ میں نے تو تمہیں دھوکہ دیا تھا اس طرف چلانے کے لئے ۔ اب میں ایک طرف اور تم ایک طرف اب میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا