خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 254
خطبات طاہر جلد 15 254 خطبہ جمعہ 29 مارچ 1996ء ہونے کا خطاب دیا۔ یہ ان کی صاحبزادی تھیں اور ہمارے چھوٹے بھائی مرزا اظہر احمد کی ساس بھی تھیں ۔ ( مرحومہ دراصل مکرم مرزا اظہر احمد صاحب کی ساس کی ہمشیرہ تھیں۔ خطبہ جمعہ میں سہوا حضور کی زبان سے ساس کا لفظ ادا ہو گیا ۔ اس بارہ میں حضور نے بعد کے ایک خطبہ میں وضاحت فرمائی ہے۔ مرتب ) اور ایک حمید احمد صاحب لائلپوری جو لندن کے ہیں ان کا وصال غالباً پچھلے جمعہ سے پہلے بدھ کو ہوا ہے یا منگل کو ہوا ہوگا ۔ مجھے پیغام ان کی طرف سے ملا تھا کہ میرا جمعہ کے دن جنازہ پڑھانا۔ تو آج اتفاق ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے دل کی خواہش اس طرح پوری ہو رہی ہے کہ جمعہ کے دن ہی نماز جنازہ ہو رہی ہے اس میں میں ان کو بھی شامل کر رہا ہوں ۔ کر رہا ہوں ۔ یہ عصر کی نماز کے بعد نماز جنازہ غائب ہوں گے ۔ آج جمعہ اور عصر کو جمع کرنے کا آخری دن ہے اس سردیوں کا۔ آئندہ سے یاد رکھیں چونکہ وقت بدل جائیں گے اور گرمیوں کا موسم شروع ہو چکا ہو گا اس لئے جمع کرنے کی کوئی جائز مجبوری نہیں۔ تو اس جمعہ کے بعد آئندہ جمعہ اپنے وقت پر جیسا کہ ہمیشہ ہوا کرتا تھا جمعہ کی نماز جمعہ کی رہے گی اور عصر کی نماز اپنے وقت پر بعد میں ادا کی جائے گی۔ خطبہ ثانیہ کے بعد حضور انور نے فرمایا۔ ایک منٹ ٹھہریں، ایک اور اعلان ہونے والا ہے۔ جو MTA ہے اس کے متعلق ۔ چونکہ مضمون نے وقت لے لیا اور جیسا کہ حق تھا مضمون کا وقت لینا ہی چاہئے تھا ابھی بہت سی باتیں رہ بھی گئیں اس لئے زائد دوسری باتوں کا وقت نہیں مل سکا۔ انشاء اللہ کل یا پرسوں سے غالباً کل ہی سے ہماراMTA انٹر نیشنل کا جو دوسرا نظام ہے وہ پورے عالمی نظام کے طور پر شروع ہو جائے گا۔ امریکہ سے بھی رابطہ بحال ہو جائے گا، چوبیس گھنٹے کا نظام ہو گا لیکن میں یہ آپ کو متنبہ کرنا چاہتا ہوں کہ شروع میں جیسا کہ Teething problems ہوتی ہیں دانت نکالنے کی ایک مہینہ، ڈیڑھ مہینے تک زیادہ سے زیادہ کچھ مشکلات درپیش ہوں گی ۔ مثلاً اب جب یہ شروع ہو رہا ہے تو باوجود اس کے کہ وہ بڑا ڈش انٹینا جس سے ہم نے اس پروگرام کو اٹھانا تھا وہ تیار تھا، آ رہا تھا مگر کسی قانونی وقت کی وجہ سے اس کو یہاں پہنچنے میں کچھ دیر ہو جائے گی دو تین دن اور لگیں گے۔ اس عرصے میں جو موجودہ نظام ہے اس کے انٹینا کو ہی غیر معمولی طاقت دے کر اور جو عالمی کمپنی سیٹلائیٹ کی ہے