خطبات طاہر (جلد 15۔ 1996ء) — Page 253
خطبات طاہر جلد 15 253 خطبہ جمعہ 29 مارچ 1996ء اللہ تعالیٰ ان میں بھی وہ ساری خوبیاں جاری کرے اور ان کا خود رفیق ہو بھائی صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کا۔ ان کا ساتھی بنے ان کا رفیق ہو اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کی باقی زندگی صحت و عافیت کے ساتھ اور اپنے بچوں کی طرف سے آنکھیں ٹھنڈی رکھتے ہوئے گزارے۔ اور ان کے علاوہ کچھ اور بھی ایسے جنازے ہیں جن کے متعلق کچھ کی درخواست تھی ، کچھ کے متعلق میرے دل میں خود ہی خواہش پیدا ہوئی اور جن کی درخواستیں تھیں یہ، وہ وہ درخواستیں ہیں جو میرے منع کرنے سے پہلے آچکی تھیں اس لئے کوئی یہ نہ سمجھے کہ انہوں نے میرے منشاء کو جاننے کے با وجود پھر بھی درخواستیں بھیجی ہیں۔ پس ان کے جنازے بھی اس جنازہ غائب کے ساتھ جو آج عصر کی نماز کے بعد پڑھا جائے گا۔ جنازہ غائب میں ان کو بھی شامل کیا جائے گا جس کی لسٹ میں سناتا ہوں ۔ مکرمہ امتہ الحمید بیگم صاحب اہلیہ مکرم خان ثناء اللہ خان صاحب مرحوم عمر 96 سال ۔ حضرت مولوی شیخ محمد صاحب آف لاہور صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیٹی تھیں اور ہمارے امیر صاحب یوں کے آفتاب احمد خان صاحب کی والدہ تھیں ۔ آخر وقت تک ان کے ذہن اور دل ایسے روشن تھے کہ ادنی سا بھی عمر کا سایہ اس پر نہیں آتا تھا، کسی وقت بھی ، ہمیشہ حاضر دماغ ، روشن دماغ خدا تعالیٰ نے غیر معمولی طور پر قلبی اور ذہنی صحت عطا فرمائی تھی۔ دوسری بلقیس بیگم صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر میر مشتاق احمد صاحب مرحوم ۔ یہ موصیہ تھیں ۔ ڈاکٹر میر مشتاق احمد صاحب کا نام بھی بہت جماعت میں معروف ہے، بہت بزرگ انسان تھے۔ مکرمہ امة الرحمن صاحبه والدہ مکرم عطاء الرحمن صاحب غنی آف لاہور، میاں اٹو کہتے تھے ہم میاں عطاء الرحمٰن کو۔ بہت ہی پیاری شخصیت، بہت محبت کرنے والی اور ساری اولاد ہی بہت نیک اور نیک مزاج ہے۔ ان کی والدہ امتہ الرحمن بھی خدا کے فضل سے بھی عمر پا ک فوت ہوئی ہیں۔ حضرت خلیفہ ایسے الاول کی نواسی تھیں ۔ حکیم فضل الرحمن صاحب کی بیوی سے آپ حضرت خلیفہ اسی اول کی نواسی تھیں ۔ ایک اور نام ہے زبیدہ پروین، پروین تو میں نے پہلی دفعہ سنا ہے آ پاز بیدہ کہتے تھے ہم ان کو۔ میجر سردار بشیر احمد خان صاحب کی بیگم ، مالیر کوٹلے کے خاندان سے، مگر ان کا جواصل اعزاز ہے وہ اس بات میں ہے کہ محمد خان صاحب جن کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ ان سے نرم سلوک کیا جائے اور ان سے بہت ہی محبت اور پیار کا سلوک فرمایا، ان کو اہل بیت میں سے