خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 390
خطبات طاہر جلد 14 390 خطبہ جمعہ 2 جون 1995ء اموال بھی خرید لئے ہیں، ان کے نہیں رہے اور جنت کو جو سلام ہے وہ اس کے بدلے ان کو عطا ہوگی ۔ جنت کو سلام کہنا اس لئے درست ہے بلکہ حقیقت ہے کہ قرآن کریم نے جنت کی تعریف ہی یہ فرمائی ہے کہ وہاں سلام، سلام کے سوا کچھ نہیں ہوگا ۔ سلا ما سلاما“ ہر طرف سلامتی ہی سلامتی ہے۔ پس خدا کے وہ بندے جو وفات پانے لگتے ہیں ان کو بھی یہی فرشتے پیغام دیتے ہیں کہ تم سلامتی میں آرہے ہو۔ پس سلام کا لفظ اطلاق تب پاتا ہے انسان پر جب وہ اس طرح اپنے آپ کو سپرد کرے کہ نہ اس کی جان اپنی رہے نہ اس کے مال اپنے رہیں اور ابراہیم علیہ السلام کو جو مکمل سلامتی نصیب ہوئی وہ اس بات کا قطعی ثبوت تھا کہ آپ نے اپنی جان بھی پیش کر دی اور اپنے اموال بھی پیش کر دیے، اپنا کچھ بھی نہ رہا۔ ایسی صورت میں جب سلام خدا اس کا جواب دیتا ہے تو سب کچھ اس کا ہو جاتا ہے کوئی چیز بھی اس کے دائرہ قدرت سے باہر نہیں رہتی اس کی ہر خواہش خدا پوری فرماتا ہے اور ایسے طریق پر فرماتا ہے کہ انسان کا تصور بھی ان باتوں کو نہیں پہنچ سکتا۔ نہ دنیا میں اس کا کچھ رہتا ہے ، نہ دین میں اس کا کچھ رہتا ہے، نہ روحانی طاقتوں کے لحاظ سے، نہ قلبی طاقتوں کے لحاظ سے جو کچھ بھی انسان خرچ کرتا چلا جاتا ہے اللہ اسے اور بڑھا کر عطا کرتا چلا جاتا ہے۔ پس سلام ان معنوں میں بھی ہے کہ اس کو جو دو گے وہ ضائع نہیں ہو سکتا۔ ہر دوسری چیز ضائع ہو سکتی ہے مگر جو خدا کے سپر د کیا جائے وہ کبھی ضائع نہیں ہو سکتا۔ ہر دوسری چیز کم ہو سکتی ہے مگر جو خدا کے سپرد کیا جائے وہ کم کبھی نہیں ہو سکتا۔ اس ”سلام کا تعلق رحمانیت اور رحیمیت سے بھی ہے اور یہ مضمون چونکہ پھر زیادہ وسیع ہو جائے گا۔ اس لئے میں مختصراً اسی حوالے سے رحیمیت سے اس کا تعلق بتاتا ہوں کہ زمیندار جو بیچ پھینکتا ہے، جو کوئی دانہ مٹی میں ملا دیتا ہے، رحیم خدا اس میں سے کچھ بھی نہیں رکھتا بلکہ جو رکھتا ہے اس سے بہت زیادہ عطا کر دیتا ہے۔ جو رکھتا ہے دراصل وہ نقص والے دانے کو رکھ لیتا ہے ۔ اسے واپس نہیں کرتا کیونکہ نقص والے دانے اگر پھوٹیں تو نقص والے بیمار بیج پیدا کریں گے۔ ان میں سے صحت مند کو اختیار فرماتا ہے اور صحت مند کو پھر اتنا بڑھا دیتا ہے کہ اس کے پھر مقابل پر جو دانے رکھے گئے ان کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ یہی نظام ہے جو پیدائش اور تولد کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ ارب ہا ارب جراثیم بظاہر ضائع ہورہے ہیں اور ان کے بدلے انسان جو ازدواجی