خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 389 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 389

خطبات طاہر جلد 14 389 خطبہ جمعہ 2 جون 1995ء ایک صفت یا اسماء میں سے ایک اسم غنی ہے۔ یعنی وہ شخص ہوتا ہے یا وہ وجود ہوتا ہے جس سے اگر کوئی اپنا تعلق توڑ لے یا اپنی مدد اس کو بند کر دے تو اس کی ذات میں ایک ذرہ بھی فرق نہیں پڑتا۔ اس وقت ات میں ایک ذرہ بھی فرق نہیں پڑتا۔ اس وقت تعلق توڑنے والا ننگا ہو جاتا ہے اور اس وقت سمجھ آتی ہے کہ دراصل اس کا سہارا اس کو نہیں تھا بلکہ تعلق ا تھا قائم رکھنے والا اس دھوکے میں مبتلا تھا کہ میری وجہ سے سلام کو کوئی طاقت ملی ہے۔ پس پھر وہ ذات غنی کہلاتی ہے۔ جو سلام ہو وہ غنی بھی ہوگی ، جس کو کسی ذات سے کسی تعلق میں کوئی خطرہ نہیں وہ از خود غنی بھی بن جاتی ہے۔ پس یہ معنی ہیں جو ہم کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی صفات ایک دوسرے سے پھوٹ رہی ہیں ایک پہلو سے ایک صفت دوسری صفت کو پیدا کر رہی ہے دوسری صفت دوسرے پہلو سے پہلی صفت کو پیدا کر رہی ہے ایک دائمی لازم و ملزوم کا تعلق ہے ۔ جو زاویہ بدلنے سے بہت ہی دلکش رنگوں میں دکھائی دیتا لگتا ہے اور نئے نئے خوبصورت رنگ اس سے پھوٹتے ہیں۔ پس غنی وہ ذات ہے جس کو احتیاج کوئی نہیں اور سلام کے یہ معنی یہاں ہوں گے کہ خدا کی ذات کو اگر تم اس سے تعلق جوڑو گے تو کوئی فائدہ اس حد تک تو نہیں ہوگا کہ تم اسے کچھ دے سکتے ہو اور جب تم تعلق کاٹو گے تو اس سے کچھ لے نہیں سکتے ۔ اس کی طاقت سے کچھ نکال نہیں سکتے ۔ آنحضرت ﷺ نے اس مضمون کو یوں بیان فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ غنی اور مستغنی ان معنوں میں ہے کہ اگر ایک انسان اس سے ساری کائنات جو کچھ بھی ہے وہ مانگ لے جہاں تک اس کا ذہن جا سکتا ہے۔ مانگ لے اور وہ اس کو دے دے تو اس کی خدائی میں اتنا بھی فرق نہیں پڑے گا جتنا ایک سوئی کو سمندر میں ڈبو کے نکالا جائے اور اس کے ناکے سے، کنارہ جو بار یک چونچ ہے اس کی ، اس سے جتنا پانی چمٹا رہتا ہے وہ سمندروں میں جتنی کمی کر سکتا ہے اتنی کمی بھی خدائی میں نہیں ہو سکتی (مسلم کتاب البر والصلہ حدیث نمبر : 4674) اور اگر کوئی تعلق توڑتا ہے وہ اتنا بھی نقصان اس کو نہیں پہنچا سکتا۔ پس سلام اور غنی دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم و ملزوم کا تعلق رکھتے ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ جب قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ سلامتی کے ساتھ تعلق جوڑو، سلام میں داخل ہو جاؤ ، تو اس کی ایک تعریف فرماتا ہے اور وہ یہ ہے اِنَّ اللهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ (التوبہ: 111) اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں بھی خرید لی ہیں اور ان کے