خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 283 of 1060

خطبات طاہر (جلد 14۔ 1995ء) — Page 283

خطبات طاہر جلد 14 283 خطبہ جمعہ 21 اپریل 1995ء دیا ہے جس کا وہ سب کچھ ضائع ہو گیا جس پر اس کی زندگی کی بنا ہے اور جب ملا ہے، ایسا بھوکا انسان، ایسا پیاسا انسان ، جو صحرا میں ایک درخت کے نیچے بیٹھا ہوا ہے، اسے جب وہ کم شدہ اونٹ ملا وہ ملا ہے یا اونٹنی ملی ہے تو وہ سب کچھل گیا جو اس کی زندگی کی ضرورت تھی ، اس کے بغیر وہ رہ ہی نہیں سکتا تھا اور اس کی فنا تھی اگر وہ چیز نہ ملتی۔ اس کا وجود قائم نہیں رہ سکتا تھا اگر وہ اس کھوئے ہوئے کو نہ پاتا۔ اس پر جو اس کی خوشی ہے وہ ایک بے مثل خوشی ہے اور اللہ کی شان دیکھیں کہ اپنی مثال اس بندے کی سی بیان کرتا ہے، وہ بندہ جو توبہ کر لیتا اور گناہوں سے واپس خدا کی طرف آجاتا ہے۔ فرماتا ہے کہ اس کو پانے سے مجھے ویسی ہی خوشی ہوتی ہے جیسے ایک صحرا میں دھوپ میں درخت کے سائے تلے بیٹھے ہوئے انسان کو ہوتی ہے جو سستانے کے لئے سوتا ہے ، آنکھیں کھولتا ہے تو اونٹنی غائب ہے، اس کا سارا سامان اس پر لدا ہوا ہے اس کے سفر کی ضرورت اس اونٹنی میں موجود ، وہ اونٹنی ہو تو وہ سفر کر سکتا ہے۔ اس کا پانی اس کا کھانا پینا ہر چیز اس میں ہے۔ تو گویا اپنی جان کھو دی۔ وہ حسرت کے ساتھ بیٹھا ہوا دیکھ رہا ہے اس کا کچھ بھی بس نہیں تو اچانک اس کو وہ اونٹنی اپنی طرف آتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، جیسی اس کو خوشی ملتی ہے اس کی زندگی کی ہر ضرورت مل گئی ، اس کی جان اس کو دوبارہ مل گئی ، اتنی خوشی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ یہ مثال دے کر فرماتا ہے میرا بندہ جب تو بہ کر کے میری طرف آتا ہے مجھے ویسی ہی خوشی ہوتی ہے حالانکہ اس کے جانے کا نقصان ہی کوئی نہیں تھا۔ خدا کی ذات کے ساتھ اس کا یہ تعلق نہیں تھا کہ اگر وہ نہ ملتا تو خدا تعالیٰ کا کچھ حصہ کھویا جاتا یا اس کی ذات کو کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق ہوتا۔ اللہ تعالیٰ تو یہ فرماتا ہے کہ ساری کائنات بھی اگر میری احسان فراموش ہو جائے اور مجھے بھلا دے تو مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ تو یہ خوشی Nobility کی خوشی ہے۔ یہ نہایت ہی اعلیٰ عظیم کردار کی خوشی ہے جس کی مثال ہمیں انسان میں مل ہی نہیں سکتی سوائے اس کے کہ قریب تر مثال انبیاء میں ملتی ہے اور اس کا جانا کیا ، اس کا واپس آنا کیا لیکن چونکہ اللہ حسن ہے اور اس کے احسان کا تقاضا تھا ایک ذرے میں بھی اگر کچھ دریافت ہو جائے ۔ اس کو کچھ مل جائے تو اللہ کا یہ احسان ہے اس پر ۔ گویا اللہ نے اس کو نہیں پایا اس نے اللہ کو پایا ہے اور طرز بیان یہ ہے کہ میں نے سب کچھ پالیا۔ یہ بھی حسن و احسان کا ایک معراج ہے اس سے بالا س سے بالا حسن و احسان تصور ہو ہی احسان تصور ہو ہی نہیں سکتا۔ پایا اس نے جس نے خدا کو کھو کر سب کچھ کھو دیا اور خدا یہ کہ رہا ہے کہ میں نے سب کچھ پالیا، گویا میرا سب کچھ کھویا گیا تھا۔ یہ رہا