خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 418 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 418

خطبات طاہر جلد 13 418 خطبه جمعه فرمودہ 3 جون 1994ء صلى الله ۔ علياء صلى الله جی معاف کرتا ہوں حالانکہ بیچ میں سے ڈرپوک ہوتے ہیں۔ بنی اسرائیل کا بھی یہی حال تھا سخت ڈرتے تھے فرعون سے اور فرعون والوں سے اور معاف کر دیا کرتے تھے۔ یہاں تک کہ حضرت موسیٰ نے جو ان کو تعلیم دی اس میں بدلے کو اتنی اہمیت دی کہ مجبور کر دیا کہ ضرور بدلہ لیں تا کہ ان کی اندرونی کمزوری دور ہو۔ جب وہ سخت دل ہو گئے اور معافی کا نام بھول گئے تب مسیح تشریف لائے اور ان کو نصیحت کی کہ تم نے بدلہ لینا ہی نہیں کوئی ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا بھی آگے کر دو ۔ یہ مختلف زمانوں کی بیماریوں کے علاج ہیں لیکن نفسیاتی کمزوریاں ہیں جو بعض دفعہ قومی بد کرداریاں بن جاتی ہیں ان کے علاج میں بھی بعض دفعہ جب زیادہ بے احتیاطی ہو جائے لمبا عرصہ تک وہ علاج لمبا کیا جائے تو مصیبت ہی آجاتی ہے مگر جو حوالہ میں دے رہا ہوں یعنی حضرت اقدس محمد رسول اللہ کا حوالہ ۔ آپ سے آپ اخلاق سیکھیں گے تو نہ کبھی افراط کی طرف جا سکتے ہیں نہ کبھی تفریط کی طرف جا سکتے ہیں کیونکہ آپ کا نور ایسا نور تھا جو وسطی نور تھا نہ وہ شرق کا تھا نہ غرب کا تھا۔ آپ آنحضور ﷺ کے وجود میں کوئی کبھی نہیں دیکھتے۔ کوئی کسی طرف نا جائز میلان نہیں پاتے آپ کو امت وسطی عطا فرمائی گئی صراط مستقیم بخشی گئی۔ پس وہ اخلاق جن کو آپ آنحضرت کے حوالے سے تعمیر کریں گے ان میں عفو بھی ہوگا ، ان میں انتقام بھی ہوگا۔ عفو بھی برمحل اور انتظام بھی برمحل ہوگا اور نہ انتقام بد خلقی ہوگی اور نہ عفو بد خلقی بن سکے گا کیونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ اگر عفو حد سے بڑھ گیا ہے اور اس کے نتیجے میں نقصان ہو رہا ہے تو بظاہر وہ نیکی ہے مگر دراصل بد خلقی ہے۔ اگر انتقام لینا لازم ہو رہا ہے اور آپ نہیں لے رہے تو نیکی نہیں یہ بدی بن جاتی ہے۔ پس تمام اخلاق کی تعریف اس کے سوا ممکن نہیں کہ اشرف المخلوقات حضرت محمد مصطفی ﷺ سے خلق سیکھیں جو متوازن تھے اور تمام اخلاق میں بیچ کی راہ آپ نے اختیار فرمائی۔ آپ کی غلامی کے نتیجے میں کوئی خطرہ نہیں ہے کہ کبھی آپ ایک طرف مائل ہو جائیں گے کبھی دوسری طرف مائل ہو جائیں گے پھر جو آپ کے تعلق آپس میں استوار ہوں گے پھر وہی تعلقات دوسری قوموں کو آپ کے ساتھ جوڑنے کے لئے اور آپ کے اندر ایک لازوال تعلق پیدا کرنے کا ذریعہ بن جائیں گے۔ صلا صلى الله اس مضمون میں جو احادیث میں آپ ۔ میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں ان میں ایک حضرت ابو ہریرہ سے