خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 417 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 417

خطبات طاہر جلد 13 417 خطبه جمعه فرموده 3 جون 1994ء عشاق آپس میں ایک دوسرے کے قریب ہوتے اور ایک دوسرے سے اٹوٹ رشتوں میں باندھے جاتے ہیں ۔ صلى الله علي صلى الله پس وہ نصائح جو آنحضور ﷺ نے اخلاق سے متعلق فرمائیں ان کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھیں اور ایک ایک نصیحت کو تعلق کی رسی سمجھیں اسے آپ قبول کریں گے تو آپ کو محمد رسول اللہ سے تعلق کا ایک اور رابطہ نصیب ہو جائے گا اگر بے پروائی سے دیکھیں گے تو اس حد تک آپ آنحضور سے کاٹے جائیں گے۔ پس اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ اس طرح قدم قدم لحظہ لحظہ صلى الله آنحضور ﷺ کے قریب ہوتے چلے جائیں۔ پھر ہم لا ز ما ایک دوسرے کے قریب ہے لازما وہ جمیعت نمودار ہوگی جو تمام کائنات کو امت واحدہ بنانے کی طاقت رکھتی ہے۔ پھر آپ پھیلیں گے، پھر آپ کو یہ خطرہ نہیں ہو گا کہ اب بوسنین آگئے ، اب بنگالی آ گئے ، اب البانین آ گئے ، اب افریقن آ گئے ۔ ہم کس طرح ان کو جوڑیں گے۔ یہ نسخہ جو میں نے آپ کو بتایا ہے آپ اختیار کریں تو آپ باہم ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح خود بخود جوڑے جائیں گے کہ آپ حیران رہ جائیں گے اور وہی اخلاق ہیں جو آپ کو ایک دوسرے سے باندھیں گے ورنہ اخلاق کے بغیر تو سیمنٹ کوئی ہے ہی نہیں ، اخلاق سے ہی قومیں جوڑی جاتی ہیں۔ آخری بات یہ ہے کہ اخلاق نہ ہوں تو قو میں نہیں جڑتیں بلکہ ہر خلق کی بجائے ایک بد خلقی جنم لے لیتی ہے اور ہر بد خلقی ایک دوسرے سے الگ کرنے کا کام دکھاتی ہے۔ پس اخلاق کو غیر معمولی اہمیت دیں مگر ان اخلاق کو حضور اکرم ﷺ کے حوالے سے حاصل کریں تا کہ آپ کا دین مکمل ہو۔ آپ آنحضور کے ساتھ محبت کا رابطہ بڑھائیں اور اس سے از خود آپ کے تعلقات اپنے بھائیوں سے بڑھیں گے لیکن اس میں ایک مزید فائدہ یہ ہے کہ اگر آنحضور ﷺ کے حوالے سے اخلاق سیکھے جائیں تو وہ اللہ کے حضور بہت ہی مقبول ہوتے ہیں اور اللہ اور اس کے فرشتے ایسے لوگوں پر درود بھیجتے ہیں اور ان پر ہمیشہ آسمان سے رحمتیں نازل ہوتی ہیں ۔ پس صلى الله صلى الله وہ سودے جو اخلاق کے سودے ہیں ان میں بھی زیادہ قیمت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ بعض لوگ اپنے مزاج کی کمزوری کی وجہ سے بعض حصوں میں با اخلاق ہوتے ہیں اور بعض حصوں میں اپنے اخلاق کی کمزوری کی وجہ سے بداخلاق ہوتے ہیں نہ ان کی بداخلاقی کی وہ اہمیت ، نہ ان کے اخلاق کی وہ اہمیت۔ یہ بیماریاں ہیں ، یہ نفسیاتی کمزوریاں ہیں ۔ بعض لوگ بدلہ نہیں لیتے کہ