خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 308 of 1080

خطبات طاہر (جلد 13۔ 1994ء) — Page 308

خطبات طاہر جلد 13 308 خطبہ جمعہ فرمودہ 29 اپریل 1994ء تربیتی کلاس آج سے شروع ہو رہی ہے۔ خدام الاحمدیہ ضلع اسلام آباد کا سالانہ اجتماع کل جمعرات سے شروع ہو چکا ہے، آج ختم ہو گا۔ خدام الاحمد یہ سن ہوزے، کیلیفورنیا کا ریجنل اجتماع آج سے شروع ہو رہا ہے 30 را پریل (کل ) تک جاری رہے گا ۔ لجنہ اماء اللہ اور ناصرات الاحمدیہ فرینکفرٹ ریجن کا ایک روزہ سالانہ اجتماع کل تھیں اپریل بروز ہفتہ منعقد ہو رہا ہے۔ ان سب کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اللہ تعالیٰ ان اجتماعات کو خالصہ اللہ بنائے رکھے اور خالصہ اللہ اجتماعات کی جو برکتیں اللہ کے ہاں مقدر ہیں وہ ساری ان کو نصیب ہوں ۔ جماعت احمد یہ کینیا کی طرف سے ایک شکوہ رہ گیا ہے کہ ان کا گزشتہ جمعے کے موقع پر مجلس شوری کا انعقاد ہوا تھا اور 24 اپریل تک وہ رہی تھی تو ان کا ذکر رہ گیا تھا تو دعا تو اب بھی ان کے لئے ہو سکتی ہے، شوری کے جو فیصلے ہوئے ہیں ابھی آخری شکل تو اختیار نہیں کر چکے، تو جو بھی انہوں نے سوچا اللہ اس میں برکت ڈالے اور جب یہاں فیصلے پہنچیں گے اور ان کی منظوری ہوگی تو ہم دعا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان فیصلوں پر بہترین عمل درآمد کی بھی توفیق بخشے ۔ جماعت احمد یہ کیا اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب اٹھ رہی ہے اور بیداری اور قربانی کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔ جب دعوت الی اللہ کی مہم کا دوبارہ یورپ سے آغاز کیا گیا ہے ( پہلے پاکستان میں جاری ہوئی تھی تو یورپ سے دوبارہ اس مضمون کو خصوصیت سے جب اٹھایا گیا ) تو اس وقت کینیا تمام افریقہ میں سب سے پیچھے تھا اور اتنی تھوڑی بیعتیں ہوتی تھیں کہ جب میں ان کے مربی صاحب سے پوچھا کرتا تھا کیا ہو رہا ہے؟ کہتے تھے یہ علاقہ ہی ایسا ہے یہاں شروع سے یہی رواج ہے۔ میں نے کہا ہم نے تو رواج بدلتے ہیں؟ نہیں بدلتے تو توڑنے ہیں اور لا زما آپ کو اٹھ کر باقی افریقہ کی سطح پر آگے بڑھنا ہو گا ورنہ تو کروڑ سال بھی بیٹھے رہیں گے تو یہاں کوئی بھی اثر نہیں پڑے گا۔ وہاں مشکل یہ تھی کہ پاکستانیوں کی ایک سوسائٹی تھی ، کچھ ہندوستان کے احمدیوں کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ راضی تھے اور پتا ہی نہیں تھا کہ کس ملک میں رہتے ہیں ، وہاں کے حقوق ادا کرنے ہیں، جس زمین کا نمک کھایا ہے اس کا شکریہ کا حق ادا کرنا ہے، ان کو حقیقت اسلام سمجھا کر، ان کے دلوں کو جیت کر ان باتوں کی طرف توجہ ہی نہیں رہی اور اسی پر راضی تھے جو کہ بڑی مخلص جماعت ہے چندہ بھی اچھا دے دیتے ہیں اکٹھے مل کے بیٹھے ہیں۔ جیسے تھے ویسے ہی رہے اور یہاں تک کہ پھر حالات ایسے