خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 88
خطبات طاہر جلد ۱۲ 88 خطبه جمعه ۲۹ جنوری ۱۹۹۳ء سہارا دیتے ہوئے آگے بڑھنے لگے اور نظام جماعت سے سہارا لیتے ہوئے آگے بڑھنے لگے پس یہ وہ تصور ہے جو جماعت احمدیہ کے نقوش کو زیادہ حسین بنائے گا ان کی دبی ہوئی پاکیزہ صلاحیتوں کو ابھارے گا ان کے اندر غلط تصورات یا امنگوں کو دبائے گا۔ کچھ چیزیں ایسی ہیں جیسا کہ قرآن کریم میں بیان ہوا ہے وہ اس قابل ہیں کہ دسها (الشمس : (11) والا سلوک کیا جائے اور کچھ ایسے ہیں جن کے ساتھ زنها (الشمس: ۱۰) والا سلوک کیا جائے۔ دشها (الشمس: 11) والا سلوک بد عادتوں اور بد خصلتوں کے ساتھ ہونا چاہئے اور زیھا (الشمس : ۱۰) کا مطلب ہے کہ جتنی پاکیزہ صفات خدا تعالیٰ نے انسان کو بخشی ہیں ۔ دینی ہوں یا قلبی ہوں جیسی جیسی بھی حسین صلاحیتیں انسان کو عطا فرمائی گئی ہیں مؤمن ان کو ابھارتا چلا جاتا ہے ان کے نقش زیادہ نمایاں کھل کر نتھر کر سامنے آتے ہیں۔ پس عالمی مالی نظام میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ٹیلی ویژن کے ذریعہ دنیا سے جو یہ رابطے ہو رہے ہیں اس کے نتیجہ میں یہ نظام ایک نئے دور میں داخل ہو گیا ہے کیونکہ پہلے کبھی جماعت کو اس وسیع پیمانے پر براہ راست وقت کے خلیفہ کی آواز میں اس کی صورت دیکھتے ہوئے نصیحتیں سننے کا موقع نہیں ملا کرتا تھا۔ ربوہ سے تقریبا سو دو سو میل کے فاصلہ پر ایسے لوگ بھی تھے جو بوڑھے ہو گئے لیکن کبھی کسی خلیفہ کو دیکھا ہی نہیں تھا اور ہزار ہا کی تعداد میں اور بڑی کثرت کے ساتھ ایسی ایسی جماعتیں ہیں کہ جہاں عملاً ناممکن تھا کہ کبھی کوئی خلیفہ جا سکے کیونکہ اگر وہ تیز رفتاری کے ساتھ جیٹ رفتار کے حساب سے بھی گھومے تو جماعتیں اس تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہیں کہ ناممکن ہے کہ ایک شخص اپنی زندگی میں تمام جماعتوں میں پہنچ کر کچھ ٹھہر کر ہر شخص سے متعارف ہو سکے لیکن اب تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ گھر گھر میں زیارتوں کے انتظام ہورہے ہیں اور جماعتوں میں بڑھتی ہوئی تعداد میں خدا کے فضل سے براہ راست باتیں سننے اور صورت دیکھنے کے مواقع میسر آ رہے ہیں ۔ اس پر بڑے بڑے دلچسپ تبصرے بھی ملتے ہیں آج کل تو کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جس میں لوگوں کی طرف سے بڑے دلچسپ تبصرے نہ ملتے ہوں اور شعر و شاعری بھی شروع ہوئی ہے اور شعر و شاعری میں ایک مشکل یہ ہے کہ مجھ سے توقع کی جاتی ہے کہ میں ان کے شعروں پر داد بھی دوں اور میری مشکل ہے کہ میں جھوٹ نہیں بول سکتا۔ اب کروں کیا محبت کا تقاضا ہے کہ داد دوں سچائی کا