خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 870
خطبات طاہر جلد ۱۲ 870 خطبه جمعه ۱۲ نومبر ۱۹۹۳ء لوگوں کو بچائے گا جن پر اس کا اثر پڑ سکتا ہے۔ یہ جو برکت ہے ذاتی طور پر حضرت اقدس عروسه اولی یعنی اول زمانہ کی محمد مصطفی کا فیض ہے جو آگے خلافت کو پہنچا ہے اور میں نے خلافت او الله خلافت حضرت ا حضرت اقدس محمد محمد رسول اللہ ﷺ کی خلاف الله علیه کی خلافت جسے خلافت راشدہ افت راشدہ کہا جاتا ہے اس پر بھی غور کیا صلى الله ہے اور میں کامل یقین سے کہہ سکتا ہوں ہر مشورے کے بعد ہر خلیفہ کا فیصلہ درست تھا۔ مؤرخ جو ہیں جن کے بعد چاہے اس میں بعض دفعہ ابہام پیدا دفعہ ابہام پیدا کرنے کی کوشش کرے لیکن بہت ۔ بہت سے ایسے فیصلے ہیں؟ آپ کو فتنے بھی دکھائی دیتے ہیں مگر اگر عمیق نظر سے دیکھیں تو ہر خلیفہ کا فیصلہ درست ثابت ہوتا ہے اور خلافت کے آخرین کے دور میں جو خلافت جاری ہوئی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خلافت کہلاتی ہے اس میں بھی میرا یہی مشاہدہ ہے میں نے بڑی گہری نظر سے حضرت مصلح موعودؓ کے دور کی تمام مجلس شوری کی کارروائیوں کو پڑھا ہے بہت سے ایسے فیصلے ہیں جو میری نظر میں ہیں جن کا میں خود گواہ ہوں ۔ اول تو آپ کو یہ بات دکھائی دے گی کہ اکثر صورتوں میں خلیفہ وقت اکثریت کے فیصلے کو قبول کر لیتا ہے۔ شاذ ہی کوئی ایسی بات ہوتی ہے جس میں قبول نہیں کرتا۔ لیکن جہاں قبول نہیں کرتا وہاں ہمیشہ وہی درست نکلتا ہے اور جماعت ہمیشہ گواہ بن جاتی ہے کہ ہاں یہی بات درست تھی۔ ہم سے کوتا ہی ہو گئی۔ پس جن لوگوں نے مجلس شوری کی کارروائیوں کا مطالعہ کیا ہوان پر تو یہ بات اتنی کھل جاتی ہے کہ کسی وہم کسی شک کا سوال بھی باقی نہیں رہتا۔ لیکن جنہوں نے وہ دور دیکھا ہے اور خود مطالعہ نہیں کیا وہ خود ایک مجسم گواہ بنے بیٹھے ہیں۔ پس خلافت کے ساتھ شوری کا حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے فیض کے نتیجے میں ایک ویسا ہی رشتہ بن گیا ہے۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے ساتھ شوری کا ایک رشتہ اللہ تعالیٰ نے قرار دیا تھا اور خلیفہ بھی جب فیصلہ کرتا ہے تو تو کل پر بنا رکھتے ہوئے کرتا ہے۔ اگر کوئی فیصلہ اکثریت کا نہیں مانتا تو ناممکن ہے کہ دعا کر کے، تو کل کرتے ہوئے وہ الگ فیصلہ نہ کرے۔ جب بھی کرتا ہے خوف کے ساتھ، انکسار کے ساتھ ، دعا کر کے، خدا سے ہدایت مانگتے ہوئے اور پھر فیصلے کے وقت اسی پر تو کل کرتے ہوئے فیصلہ کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جو مجالس شوری ہیں۔ ان میں ہر صدر مجلس شوری کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہو فی ذاتہ یہ تحفظ حاصل نہیں ہے۔ لیکن اس میں بھی شک نہیں ہے کہ دنیا کی جتنی بھی دوسری مجالس