خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 869
خطبات طاہر جلد ۱۲ 869 خطبه جمعه ۱۲ نومبر ۱۹۹۳ء دیا۔ یعنی جس کے حق میں غلط فیصلہ ہو جاتا ہے وہ پھر ذمہ دار ہو جاتا ہے کہ حق میں فیصلہ ہونے کے با وجود از خودا سے واپس کرے۔ تو یہ ہے کہ نظام شوری کی روح میں آپ کے سامنے کھول کر بیان کر رہا ہوں ۔ بعض دفعہ غلط فیصلہ ہو سکتا ہے اگر حقائق غلط ہوں ۔ - صلى الله جہاں تک حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات کا تعلق ۔ ہے میں نے جہاں تک مطالعہ کیا ہے ایک چھوٹا سا شائبہ بھی اس بات کا دکھائی نہیں دیا کہ آپ کا فیصلہ غلط ہو گیا ہو۔ ہاں وقتی طور پر لاعلمی کے نتیجے میں فیصلے میں تردد فر مایا ہے اور اس کی وجہ سے بعض دفعہ کسی کو تکلیف پہنچی ہے۔ مثلاً حضرت عائشہ کا واقعہ ہے جسے واقعہ افک کے نام ۔ سے سب جانتے ہیں۔ اس ضمن میں : جو واقعات آنحضور ﷺ کی خدمت میں پیش کئے گئے ان کی وجہ سے آپ نے یکطرفہ فیصلہ نہیں کیا مگر جو حضرت عائشہ کا حق تھا کہ آنحضور یہ ان کی بریت کرتے کچھ عرصے تک وہ اس حق سے محروم رہیں۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے طور پر خود بریت فرمائی۔ اس عرصے میں حضرت عائشہ کی جو کیفیت تھی، جو حالت تھی غم کی۔ اس کا اس سے تصور کریں کہ جب آنحضرت ﷺ نے جا کر خوشخبری دی کہ اے عائشہ! تجھے خدا نے بری کر دیا ہے تو یہ کہا کہ آپ نے تو نہ کیا۔ عورتوں کا ایک خاص انداز ہے شکوے کا آپ نے تو مجھے دکھ میں مبتلا رکھا ہے۔ تو یہ وہ مثال ہے کہ ایک بات کا علم نہیں تھا اس وجہ سے احتیاط برتی ہے، اپنے رشتے اپنے قرب کی وجہ سے جانتے ہوں گے ضرور، یہ میں نہیں کہہ سکتا لیکن قانونی طور پر شاید یہ ن سمجھتے ہوں کہ میں اگر یہ فیصلہ دوں گا تو انصاف کی دنیا میں ایک صحیح مثال قائم کرے گا۔ ہو سکتا ہے یہ خوف دامنگیر ہو۔ ایک انسان ذاتی طور پر کسی کو بری الذمہ سمجھتا ہے لیکن ظاہری حالات میں چھان بین اس حد تک نہیں پہنچی ہوتی کہ اسے بری قرار دے سکے اور اگر قرار دے دے تو پھر اپنے دل کے اطمینان کے مطابق کسی کو بری قرار دے دینا آئندہ انصاف کی دنیا میں کئی قسم کے ابہام پیدا کر سکتا ہے۔ جب میں سوچتا ہوں کئی قسم کی ایسی وجوہات سامنے آتی ہیں جن کی وجہ سے ممکن ہے کہ آنحضور ﷺ نے جانتے ہوئے بھی حضرت عائشہ کی بریت نہ فرمائی ہو لیکن خدا نے فرمائی۔ یہ تو کل کا مضمون ہے اگر تو کل کرو گے تو دو باتوں میں سے ایک ضرور ہوگی اگر غلط فیصلہ ہے تو اللہ درست فرمادے گا کیونکہ جس کی ذات پر تو گل کر کے تم نے فیصلہ کیا ہے وہ ذمہ دار ہے کہ تمہاری غلطیوں کو بھی درست کر دے گا۔ دوسری بات یہ کہ ان غلطیوں کے خمیازے سے ان سب