خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 687 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 687

خطبات طاہر جلد ۱۲ 687 خطبه جمعه ۱۰ استمبر ۱۹۹۳ء کرو، اپنے اعمال میں توحید قائم کرو، اپنے گردو پیش کے تعلقات میں، عزیزوں ، رشتہ داروں سے تعلقات میں ، بہن بھائیوں کے ساتھ تعلقات کے علاوہ دوستوں سے تعلقات میں ، غرضیکہ یہ مضمون رفتہ رفتہ جوں جوں کھل رہا ہے اس کا دائرہ بھی پھیلتا جا رہا ہے لیکن بنیادی مقصد جو پیش نظر ہے وہ یہ ہے کہ ساری جماعت توحید پر اس طرح قائم ہو جیسے توحید پر قائم ہونے کا حق ہے۔ اپنے خیالات اور اعتقادات میں بھی توحید پیدا کرے، اپنے اعمال میں بھی توحید پیدا کرے، ہر قسم کے تضادات سے پاک ہو جائے ، تب جماعت کو یہ توفیق ملے گی کہ قیام توحید کے سلسلے میں اگلا قدم اٹھا سکے۔ اگلا قدم یہ ہوگا کہ ہم تمام بنی نوع انسان کو تو حید کی طرف بلائیں جبکہ خود موحد بن چکے ہوں اور توحید کے فوائد سے تمام بنی نوع انسان کو آگاہ کریں اور توحید پر قائم ہونے کی تلقین کریں اور صاف بتائیں کہ توحید پر قائم ہوئے بغیر دنیا میں ہرگز عدل قائم نہیں ہو سکتا اور اگر عدل قائم نہ ہو سکا تو امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد تیسرا درجہ خدمت خلق کا ہے جب آپ تو حید پر قائم ہو جاتے ہیں تو تمام بنی نوع انسان کا درد آپ کا درد بن جاتا ہے کیونکہ خدا کی مخلوق کا درد خالق سے الگ نہیں ہو سکتا جس خالق سے محبت ہو اس کی مخلوق سے بھی محبت لازم ہے۔ پس خدمت خلق کا مضمون بھی دراصل توحید کے چشمے سے ہی پھوٹتا ہے اور تبھی سچا ہو گا اگر توحید پر آپ کا قیام سچا ہے ، اگر توحید سے آپ کی وفا سچی ہے۔ اسی ضمن میں اگلا قدم تبلیغ کا ہے جب آپ دعوت الی اللہ دیتے ہیں تو وہ بھی درحقیقت توحید ہی کی خاطر دیتے ہیں اور اگر خدا ایک ہے تو زمین پر اس کے بندوں کا ایک ہونا بھی لازمی نتیجہ ہے خدا کی وحدت کا ، اور زمین پر توحید قائم کرنے کے لئے تبلیغ ضروری ہے۔ پس یہ وہ سلسلہ ہے مضمون کا، جسے میں کچھ عرصے سے چلا رہا ہوں اور اس کا بقیہ حصہ ممکن ہے آخری خطاب میں بیان کروں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کچھ اقتباسات میں نے توحید کا مضمون آپ کو گہرائی میں سمجھانے مانے کے لئے چنے ہیں۔ وہ میں آپ کے سامنے پڑھ کر سناتا ہوں اور جہاں تشریح ضروری ہوگی وہاں ساتھ تشریح کرتا چلا جاؤں گا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: آخر سچائی کی فتح ہے کیونکہ یہ امر انسان سے نہیں ہے اور نہ کسی آدم زاد کے ہاتھوں سے بلکہ اس خدا کی طرف سے ہے جو موسموں کو بدلاتا اور