خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 657 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 657

خطبات طاہر جلد ۱۲ 657 خطبه جمعه ۲۷ اگست ۱۹۹۳ء سوا کوئی رحم نہیں ہے۔ ایسی صورت میں بعض دفعہ خدا آزمائش میں ڈالتا ہے اور پہچانتا ہے یعنی ویسے تو خدا علم رکھتا ہے مگر انہیں دنیا کے لئے گواہ بنا دیتا ہے کہ یہ لوگ سچے تھے۔ اللہ تعالیٰ کو علم تھا اور ہے کہ بلال سچا تھا ، اللہ صلى الله تعالیٰ کو علم تھا اور ہے کہ عثمان سچے تھے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کو حضرت اقدس محمد رسوا محمد رسول اللہ ﷺ کے تمام عشاق کے متعلق علم تھا ، ہے اور رہے گا لیکن اگر وہ قربانیوں کی چکی میں پیسے نہ جاتے ، اگر وہ شدید ابتلاؤں میں آزمائے نہ جاتے تو دنیا کو تو علم نہیں ہو سکتا تھا، وہ تو عالم الغیب نہیں ہے۔ علي پس محمد رسول اللہ کی صداقت کی گواہی دینے کے لئے اور آپ کا سب سے مل کر خدا کی توحید کی گواہی دینے کے لئے وہ ابتدائی دور قربانیوں کا انتہائی دردناک دور تھا۔ توحید کے لئے کبھی کسی قوم نے ایسی دردناک قربانیاں نہیں دیں جیسے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ اور آپ کے غلاموں نے دیں اور شہد کا یہ معنی ہے جس کو آپ کو ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہئے ۔ شَهِدَ اللہ اللہ گواہی دیتا ہے اور ساتھ وہ لوگ بھی گواہی دیتے ہیں ۔ اللہ تو تکلیفوں اور ابتلاؤں سے منزہ ہے مگر یہ لوگ کیسی گواہی دیتے ہیں ۔ وہ گواہی جو حرص کے لئے دی جائے اس کی تو کوئی قدر و قیمت نہیں ہوا کرتی ، اس کی تو کوئی حقیقت نہیں ۔ وہ گواہی جو اپنے نفس کی خاطر دی جائے اس کی بھی کوئی حقیقت نہیں ، وہ گواہی جو اپنے نفس کے خلاف دی جائے ، اپنے ظاہری مفادات کے خلاف دی جائے ، وہ گواہی جس کے نتیجے میں شدید ابتلاؤں کا سامنا کرنا پڑے اور انتہائی دردناک مظالم کی چکی میں پیا جائے ، وہ گواہی ہے جو سچی گواہی ہے اور یہ وہ گواہی تھی جو حضرت اقدس رسول اکرم ﷺ کے ساتھ آپ کے تمام صحابہ نے دی ہے اور یاد رکھیں کہ اسلام کا آغاز حقیقت میں توحید ہی کا آغاز تھا۔ یہ قربانیوں کا -1۔ یہ قربانیوں کا دور وہ ہے جہاں توحید اور اسلام ایک ہی چیز کے دو نام تھے اور تمام تر تکلیفیں جو حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے غلاموں کو دی گئیں وہ خالصہ توحید کی وجہ سے دی گئی ہیں۔ کسی اور چیز کا جھگڑا ہی نہیں تھا جھگڑا ہی تو حید کا تھا۔ اگر محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ کے غلام یہ اعلان کر دیتے خدا واحد نہیں ہے۔ تو جو چاہے مذہب بناتے ، جس مذہب کی چاہے پیروی کرتے ، جس طرح چاہے زندگی کو ڈھالتے ۔ کفار کو اس سے کوئی غرض نہیں تھی، کھلی چھٹی ہے جو چاہو کرو مگر خدائے واحد کا نام نہ لو۔ ہمارے بتوں کا بھی ذکر کرو پھر تمہیں اجازت ہے جو چاہو کرتے پھرو۔ پس سارا جھگڑا ہی تو حید کا تھا۔ صلى الله