خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 455
خطبات طاہر جلد ۱۲ 455 موتیا بند کے ساتھ آنکھوں کے اوپر جھلی آجاتی ہے اور وہ خطبه جمعه ۱۱رجون ۱۹۹۳ء نند سکتیں۔ چنانچہ حضرت مسیح علیہ السلام کے دور میں موسوی امت کی جو حالت تھی اس کا ایک گہرا تعلق مسیح کی آمد ثانی کے دور سے ہے اور لازم تھا کہ وہ علامتیں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب ہونے والے ان لوگوں میں پائی جاتیں جو اپنی بیماریوں کی وجہ سے ایک مسیحی نفس کا تقاضا کر رہے تھے۔ جن پہلی بیماریوں نے مسیح اول کا تقاضا کیا تھا اور مسیح نے ان لوگوں کو شفاء بخشی تھی جنہوں نے اسے قبول کیا ۔ لازم تھا کہ یہ بیماریاں جب دوبارہ سر اٹھا ئیں تو وہی آزمودہ نسخہ دوبارہ آسمان سے اتارا جائے مسیح کی آمد ثانی کا یہ راز ہے مگر جن لوگوں کی آنکھیں اندھی ہو چکی ہوں وہ بھی نہیں دیکھتے اور جو گھبراتے ہیں کہ اگر ہم نے دیکھا تو صداقت قبول کرنی پڑے گی اور دنیا کے پھندے ان کو توفیق نہیں دیتے کہ وہ آزاد ہو کر صداقت کی طرف بڑھ سکیں ان کا حال بھی اندھوں کی طرح ہو جاتا ہے۔ کچھ وہ ہیں جو سن نہیں سکتے کیونکہ ان کے کانوں پر مہریں ثبت ہیں اور سنائی دیتا ہی نہیں۔ ان معنوں میں کہ لمبے عرصہ کی غفلتوں کے نتیجہ میں لمبے عرصہ کی ٹیڑھی سوچوں کے نتیجہ میں واقعہ ان کو سچا پیغام سمجھ ہی نہیں آ سکتا لیکن ایسے بھی ہیں جو ڈرتے ہیں کہ ہم سمجھ جائیں گے اور اپنے کانوں پر ہاتھ رکھ لیتے ہیں۔ قرآن کریم نے دوسری جگہ ایسے لوگوں کی مثال دی ہے کہ جب بجلی چمکتی ہے تو وہ موت کے ڈر سے کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے ہیں تو مراد یہ ہے کہ کچھ بہرے نہیں بھی ہوتے لیکن آوازوں کے خوف سے وہ اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیا کرتے ہیں تو ایسے بھی بعض سننے والے ہیں جن کے اندر شنوائی کی رمق موجود ہوتی ہے لیکن ڈرتے ہیں کہ کہیں یہ نہ ہو کہ ہم سمجھ ہی جائیں اور مجبور ہو جائیں اور پھر ان کی پیروی کرنی پڑے اور پھر دنیا سے تعلقات کاٹنے پڑیں۔ وو اس ضمن میں آخری فقرے یہ بیان کیے گئے ہیں کہ ” تا ایسا نہ ہو کہ آنکھوں سے معلوم کریں“ پہلے وہ لوگ جن کا ذکر خَتَمَ الله “ کے تابع ہے کہ وہ تو لمبی بد کرداریوں کی وجہ سے سننے سے ہی محروم رہ گئے ، دیکھنے سے ہی محروم اور ان کے دل غافل ہو چکے ہیں ان کو کچھ سمجھ نہیں آ سکتی ۔ أَمْ عَلَى قُلُوبِ أَقْفَالُهَا۔ قرآن کریم نے دوسری جگہ اس مضمون کو یوں بیان فرمایا کہ گویا ان کے دلوں پر تالے پڑ گئے ہیں، تالے پڑ گئے ہوں تو کوئی چیز اندر جاتی ہی نہیں مگر کچھ اور بھی ہیں جہاں چیزیں آتی جاتی ہیں اور تالے نہیں پڑے ہوئے مگر اچھی چیزوں کے لئے وہ تالے لگا لیتے ہیں اور بری