خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 454 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 454

خطبات طاہر جلد ۱۲ 454 خطبه جمعه ۱۱رجون ۱۹۹۳ء کھو یا ر ہے کہ میں کچھ اور بھی کروں، کچھ اور بھی کروں لیکن انسانی توفیق محدود ہو اور وہ ان تمناؤں کو پورا نہ کر سکے تو پھر اس سے آگے فصلِ الہی کے ساتھ اس مضمون کا تعلق پیدا ہو جاتا ہے پھر وہ جتنا کماتا ہے اُس سے زیادہ خدا دے دیتا ہے جیسا کہ گناہوں کے متعلق بھی گنہگا رکہتے ہیں: نا کردہ گناہوں کی بھی حسرت کی ملی داد (دیوان غالب صفحه ۳۴۶) کہ خدا جو گناہ ہم نہیں کر سکے اُن کی حسرت کی ہی داد دے دے۔ خدا تعالیٰ ان نیکیوں کی داد دیتا ہے جو انسان نہیں کر سکتا اور اس کا بھی دل سے تعلق ہے۔ تو فرمایا ہے کہ و اسح تو وہ ہے لیکن علیم بھی ہے۔ اگر تمہارے دل میں لامتناہی خدمت کی تمنائیں ہیں اور توفیق نہیں ہے تو خدا تم سے وعدہ کرتا ہے کہ جس کے تم غلام ہو اس کی برکت سے ، اس کی محبت کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ تمہیں لا محدود عطا کرے گا تمہارے ساتھ سویا دوسو یا چار سو یا سات سودانوں کا وعدہ نہیں ہوگا بلکہ لا متناہی ترقیات ہوں گی۔ پھر آگے یسعیاہ کی پیشگوئی شروع ہوتی ہے حضرت مسیح نے اس کا حوالہ دیا اور فرمایا کہ آج ہم جس دور میں سے گزر رہے ہیں یہ وہی دور ہے جس پر یسعیاہ کی پیشگوئی صادق آتی ہے۔ وہ پیشگوئی کیا تھی ؟ تم کانوں سے سنو گے پر ہرگز نہ سمجھو گے اور آنکھوں سے دیکھو گے پر ہرگز معلوم نہ کرو گے کیونکہ اس امت کے دل پر چربی چھا گئی ہے اور وہ کانوں سے اونچا سنتے ہیں اور انہوں نے اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں تا ایسا نہ ہو کہ آنکھوں سے معلوم کریں اور کانوں سے سنیں اور دل سے سمجھیں اور رجوع لائیں اور میں ان کو شفا بخشوں (انجیل متی : ۳۶:۱۳) یعنی ڈرتے ہیں کہ ہم سے یہ نہ ہو جائے ۔ اس مضمون کو قرآن کریم نے یوں بیان فرمایا ہے خَتَمَ اللهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَ عَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ * (البقره: ۸) اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہریں لگا دی ہیں وَ عَلَى سَمْعِهِمْ اور ان کے کانوں پر مہریں لگادی ہیں وَ عَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ اور ان کی آنکھوں پر جھلیاں آگئی ہیں، جیسے