خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 450 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 450

خطبات طاہر جلد ۱۲ 450 خطبه جمعه ۱۱ارجون ۱۹۹۳ء متنبہ کرنے والی ہیں کہ دیکھو تم پہلے مسیح کے دور پر ٹھہر نہ جانا۔ تمہاری مثال اس سے ملتی ہے مگر تمہاری شان اس سے بڑھ کر ہونی چاہئے کیونکہ تم مسیح موسوی کے غلام نہیں ، مسیح محمدی کے غلام ہو۔ پس نظر رکھو کہ مسیح نے کیا کیا تمثیلات بیان کیں ان میں سے جو بہتر ہیں وہ اپنے لئے چن لو۔ قرآن کریم مومن کی شان یہ بیان فرماتا ہے کہ جب ان کے سامنے چیزیں بیان کی جائیں تو احسن کو اختیار کر لیتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ مختلف قسم کی تمثیلات ہو سکتی ہیں۔ کچھ نسبتا ادنی ، کچھ اس سے بہتر ، کچھ اس سے بہت بہتر اور بعض احسن ہیں سب سے اچھی تو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے غلاموں سے یہ توقع رکھی گئی ہے کہ تم ہر قسم کی تمثیلات سنو گے مگر احسن کو چلنا کیونکہ تمہارا آقا احسن ہے جس کی غلامی کا دم بھرتے ہو وہ تمام انبیاء سے بڑھ کر ہے۔ تمام تخلیق میں کوئی وجود اس شان کا پیدا نہیں ہوا۔ پس اس کی نسبت سے تم اپنے اندر بھی ویسے ہی کمالات پیدا کرنے کی کوشش کرو۔ اب حضرت مسیح کی تمثیلات سنیں جن کا ان آیات سے تعلق ہے۔ آپؐ فرماتے ہیں ۔ اُسی روز یسوع گھر سے نکل کر جھیل کے کنارے جا بیٹھا اور اس کے پاس ایسی بڑی بھیڑ جمع ہوگئی کہ وہ کشتی پر چڑھ بیٹھا اور ساری بھیڑ کنارے پر کھڑی رہی اور اُس نے ان سے بہت سی باتیں تمثیلوں میں کہیں کہ دیکھو ایک ہونے والا بیج بونے نکلا اور بوتے وقت کچھ دانے راہ کے کنارے گرے اور پرندوں نے آکر ان کو چک لیا ( یعنی ایک تبلیغ کرنے والا ایسا بھی ہے جس کی یہ مثال ہے ) اور کچھ پتھریلی زمین پر گرے جہاں ان کو بہت مٹی نہ ملی اور گہری مٹی نہ ملنے کے سبب سے جلد اُگ آئے اور جب سورج نکلا تو جل گئے اور جڑ نہ ہونے کے سبب سے سوکھ گئے اور کچھ جھاڑیوں میں گرے اور جھاڑیوں نے بڑھ کر اُن کو دبا لیا اور کچھ اچھی زمین میں گرے اور پھل لائے۔ کچھ سو گنا کچھ ساٹھ گنا کچھ تمہیں گنا جن کے کان ہوں وہ سن لے شاگردوں نے پاس آ کر اُس سے کہا تو اُن سے تمثیلوں میں کیوں باتیں کرتا ہے؟ اُس نے جواب میں اُن سے کہا اس لئے کہ تم کو آسمان کی بادشاہی کے بھیدوں کی سمجھ دی گئی ہے مگر ان کو نہیں دی گئی کیونکہ جس کے پاس ہے اُسے دیا جائے گا اور اُس کے پاس زیادہ