خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 449
خطبات طاہر جلد ۱۲ 449 خطبه جمعه ۱۱ارجون ۱۹۹۳ء میں کچھ سادہ ہیں ، کچھ زیادہ ذہین ہیں ، کچھ تجربہ کار ہیں اور کچھ نا تجربہ کار ہیں ، تبلیغ میں ان کے ساتھ مختلف لوگوں کا واسطہ روزمرہ پڑتا رہتا ہے اور بعض ایسے ہیں جو چٹیل زمینوں کے ساتھ ہی نبرد آزمائی کرتے ساری عمر گنوا دیتے ہیں۔ بیچ پھینکتے ہیں تو چٹیل زمینوں پر کچھ تھوڑا سا اُگتا بھی ہے لیکن مر جاتا بل پر ، ہے اسی طرح بعض ہیں جو ایسی جگہ بیچ پھینکتے ہیں جہاں اردگرد خونخوار درندے ہیں دشمن ملاں موجود ہیں وہ تاک میں رہتے ہیں کہ ادھر بیچ پھینکنے والا پیٹھ موڑے تو وہ واپس آکر اس کھیتی کو برباد کر دیں۔ ایسے لوگ بھی ہیں اور واقعہ ایسا ہوتا بھی ہے۔ کچھ ایسے سمجھ دار بیچ پھینکنے والے ہیں جو اچھی زمینوں کا اور ہوتا ایسے انتخاب کرتے ہیں اور پھر ان کی حفاظت کرتے ہیں ، ان کی نگرانی کرتے ہیں ان کی کھیتیاں ہیں جو نشو و نما پاتی ہیں اور قرآن کریم نے دور آخر کی جو مثال دی ہے، وہ ایسے ہی لوگوں کی دی ہے حضرت مسیح نے تفصیل سے ان سب لوگوں کی مثال دی ہے کسی نے یہاں بیچ پھینک دیا، کسی نے وہاں پھینک دیا، کسی کا بیچ چٹانوں پر ضائع ہو گیا یا کسی کے بیج کو جانور چگ گئے لیکن قرآن کریم نے اس تفصیل کے ساتھ اس مثال کو بیان فرما کر ان لوگوں کی مثال دی ہے جو حکمت کے ساتھ اچھی زمین پر بیج پھینکتے ہیں اور یہ شان محمد مصطفی ﷺ ہے جس کا ذکر چل رہا ہے فرمایا وَ الَّذِينَ مَعَةً صاحب حکمت لوگ ہیں ۔ صاحب عرفان لوگ ہیں وہ اپنے بیج کو ضائع نہیں کرتے۔ ان کے اندر خدا تعالیٰ نے یہ صلاحیت بخشی ہے کہ وہ اچھی زمینوں کا انتخاب کریں اور پھر اس پیج کی حفاظت کریں۔ اس کو اپنی آنکھوں کے سامنے اُگتا دیکھیں، نشو و نما پاتا دیکھیں۔ اس کی ہریالی ان کی آنکھوں کو شاداب کرے اور دشمن غیظ و غضب میں مبتلا ہو مگر کچھ نہ کر سکے اس لئے جب میں مسیح کی تمثیلوں کے ساتھ قرآن کریم کی تمثیلات کا موازنہ کرتا ہوں تو بالکل کھلم کھلی بدیہی بات ہے کہ قرآن کریم نے اس صلى الله مضمون کو بہت زیادہ آگے بڑھا دیا ہے اور اس مضمون میں ایک غیر معمولی شان پیدا کر دی ہے۔ اب میں مسیح کے اس ذکر کو لیتا ہوں جس کے مقابل پر بعض اور آیات بھی آپ کے سامنے رکھوں گا جن میں یہ مضمون ایک اور شان کے ساتھ قرآن کریم نے بیان فرمایا ہے۔ چونکہ مسیح کا تعلق دور اُخروی سے ہے۔ قرآن کریم سے بھی ثابت ہوتا ہے اور احادیث سے بھی ثابت ہے کہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کے دور آخر پر آپ کے جس غلام نے ظاہر ہونا ہے اس کو شانِ مسیحی عطا ہو گی ، اس کو مسیح کا نام دیا گیا ہے اس لئے ان تمثیلات کے ساتھ ہمارا تعلق ضرور ہے اور وہ تمثیلات ہمیں