خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 411
خطبات طاہر جلد ۱۲ اس سے 411 خطبه جمعه ۲۸ رمئی ۱۹۹۳ء اسے قطع نظر کہ نظام جماعت نے ان کے ساتھ کیا کیا اور کیوں کیا؟ ا؟ وہ اللہ سے اپنا تعلق نہیں توڑتے ، خدمت میں ہمیشہ اپنے آپ کو بیلوں کی طرح جوتے رکھتے ہیں۔ پس یہ کام کرنے والے چاہئیں لیکن یہ پیدا اس طرح ہوں گے جس طرح میں نے بیان طرح ہوں کے نفی طرح میں نے کیا۔ حکمت کے ساتھ ، سلیقے کے ساتھ، پہلے اپنے کام کو سمجھیں، صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیں اور پھر معین ہر جماعت پر یا ہر مجلس پر نظر رکھیں کہ وہاں کیا کیا ضرورتیں ہیں ؟ بجائے اس کے کہ اندھے سرکلر بھیج دیں کہ فلاں بات یوں ہو جائے اور اس کے بعد انتظار کریں کہ یوں ہو گئی ہوگی اور پھر رپورٹوں میں میرا وقت بھی ضائع کریں۔ ایسی باتیں کریں جو نشانے پر بیٹھنے والی ہوں۔ میں نے دیکھا ، مجھے شکار کا شوق رہا ہے کہ ڈار میں اگر بغیر نشانہ لئے آپ فائر کرتے ہیں تو بہت کم اتفاق ہوتا ہے کہ کوئی پرندہ ہاتھ آئے لیکن ایک پرندہ بھی بیٹھا ہوا اگر نشانہ لے کر ماریں گے تو وہ ہاتھ آئے گا۔ پس کام ایسا کریں کہ نشانہ ہو اور نشانے کے سامنے کوئی پرندہ بھی ہو۔ پتا ہو کہ کون سامنے بیٹھا ہوا ہے اور اُس کے لئے تفصیلی جائزے کے بغیر یہ مکن نہیں ہے آپ کو دکھائی تو دے ۔Kassal میں کیا ہو رہا ہے، Kalfroa میں کیا ہو رہا ہے، ہیمبرگ میں کیا ہو رہا ہے، وہاں خدام کیا کرتے ہیں ، کون کون سی بیماریوں میں مبتلا ہیں ، کون گندے کا روباروں میں مبتلا ہے، کون جتھے بنا کر غنڈا گردی کروا رہا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب تربیت کی باتیں ہیں۔ جن پر نظر نہ رکھنے کے نتیجے میں بعض دفعہ فساد بڑھ جاتا ہے، جب قتل ہو جاتے ہیں تو پھر اطلاع دی جاتی ہے کہ جماعت احمد یہ میں بھی ایسا واقعہ ہو گیا ہے۔ دل کٹ جاتا ہے، اُس پس منظر کو سوچ کر جس میں ایک لمبے عرصے سے ایک ظالم اور قاتل تیار ہو رہا تھا اور جماعت نے کوئی نظر نہیں رکھی ۔ وہ نگران جو تربیت سے تعلق رکھتے ہیں خواہ وہ خدام الاحمدیہ کے ہوں ، لجنہ کے ہوں ، انصار کے ہوں ، جماعت کے ہوں ۔ وہ اگر ہوش مندی سے کام کر رہے ہوں تو ہو ہی نہیں سکتا کہ کوئی بیماری بڑھ کر پھٹنے کے مقام تک جا پہنچی ہو اور اُن کو پتا نہ لگے۔ جب پھوڑا پھٹ پڑے جب بد بودار پیپ بہہ نکلے تب وہ اطلاعیں دیں کہ یہ واقعہ ہو گیا ہے۔ پس با شعور ہو کر کام کریں خدا تعالیٰ مومنوں سے جس حکمت کے تقاضے کرتا ہے اُس حکمت کے تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کام کریں تو پھر دیکھیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ آپ کے کاموں میں کتنی برکت پڑتی ہے۔ یہ جتنے خدام میرے سامنے اس وقت بیٹھے ہوئے ہیں اللہ کے فضل