خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 410 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 410

خطبات طاہر جلد ۱۲ 410 خطبه جمعه ۲۸ رمئی ۱۹۹۳ء رکھتے ہیں اُن کے کام بڑھتے ہی رہتے ہیں اور محض دعا اور فضل الہی سے سمیٹتے ہیں۔ جب کام بڑھتے ہیں تو پھر کچھ اور اس کے نتیجے میں برکتیں خود بخود پیدا ہوتی ہیں۔ میں نے یہاں مجلس عاملہ سے جب گفتگو ہوئی اُن کو انگلستان کی مثال دی۔ جب میں وہاں آیا تھا تو گنتی کے چند آدمی تھے جن کو کام کرنے والے سمجھا جاتا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے سینکڑوں بلکہ ہزاروں کہیں تو مبالغہ نہیں ہوگا۔ ایسے نوجوان، بوڑھے اور بچے پیدا ہو چکے ہیں جو کسی نہ کسی نیک کام میں جماعت کے ساتھ باندھے گئے ہیں اور دن رات خدمتوں میں مصروف ہیں ۔ یہ جسوال برادران ہمارے ہاتھ آئے ہیں۔ یہ انہی لوگوں میں سے نکل کے آئے ہیں ۔ جہاں کام بڑھیں وہاں خدمت گار بھی خدا تعالیٰ بڑھا دیتا ہے۔ جہاں کام نہ ہو وہاں پہلے خدمت گاروں کو بھی نیند آنے لگتی ہے۔ وہ بھی بیزار ہو کر اور تھک کر کاموں میں دلچسپی چھوڑ دیا کرتے ہیں۔ تو برکت کے لئے کام کا بڑھانا ضروری ہے، مددگار ہاتھ خدا تعالیٰ عنایت کیا کرتا ہے۔ پس جب آپ کام بڑھائیں اور ساتھ یہ دعا کریں کہ اے خدا! ہمیں اپنی جناب سے سلطان نصیر عطا فرما تو پھر دیکھیں آپ کے کاموں میں کیسے برکت پڑتی ہے۔ ہر طرف سے آپ کو مددگار میسر آنے شروع ہوں گے اور وہ مددگار میسر آئیں گے جو خدا کی خاطر آپ کے ساتھ کام کریں گے اور یہ نقطہ یا د رکھنے کے لائق ہے۔ دعا یہ ہے کہ اے خدا! تو اپنی جناب سے سلطان نصیر عطا فرما۔ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَ اجْعَلْ لِي مِن لَّدُنْكَ سُلْطَنًا نَّصِيرًا (بنی اسرائیل: ۸۱) دینی کاموں میں خدا کی طرف سے سُلْطنًا نَصِيرًا کا ملنا نہایت ضروری ہے۔ اگر آپ اپنے تعلقات کے نتیجہ میں مددگار لیں گے تو ہرگز بعید نہیں کہ جب آپ ٹھو کر کھائیں تو آپ کے ساتھی بھی سب ٹھوکر کھا جائیں ، ہرگز بعید نہیں کہ ایک جتھا بن جائے ، بظاہر نیکی کے کام ہو رہے ہوں لیکن وہاں در حقیقت ذاتی تعلقات کے نتیجے میں بنے ہوئے جتے ہوں۔ ایک کو کام سے ہٹا یا باقی نے کہا ہم بھی پھر کام نہیں کرتے۔ تو یہ تو نفس کی بیماریاں ہیں، یہ کام کرنے والے نہیں ہیں، کام کرنے والے وہی ہیں جو اللہ سے عطا ہوتے ہیں اور دعا کے نتیجے میں ملتے ہیں، اللہ کی خاطر کام کرتے ہیں ۔ وہ لوگ ٹھوکروں سے آزاد ہیں، کوئی ابتلاء ان کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ اُن کی جو تیوں تک بھی ابتلاؤں کے ہاتھ کی پہنچ نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ خدا والے ہیں خدا کی خاطر آتے ہیں اور