خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 36
خطبات طاہر جلد ۱۲ 36 خطبه جمعه ۱۸ جنوری ۱۹۹۳ء راہنما رہا تو نہ ہندوستان میں شرافت زندہ رہ سکتی ہے نہ پاکستان میں شرافت زندہ رہ سکتی ہے اور بھی اس قسم کی باتیں ہیں جو مختلف زاویوں سے بیان کی جاسکتی ہیں لیکن وقت چونکہ تھوڑا باقی رہ گیا ہے اس لئے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ایک دو اقتباس پیش کر کے اب اس مضمون کو ختم کرتا ہوں ۔ حضور فرماتے ہیں۔ اس بات کو کون نہیں جانتا کہ سخت دشمنی کی جڑھ ان نبیوں اور رسولوں کی تحقیر ہے جن کو ہر ایک قوم کے کروڑہا انسانوں نے قبول کر لیا ہے۔ دو (چشمہ معرفت - روحانی خزائن جلد نمبر ۲۳ صفحہ ۳۸۳) دنیا کی مشکلات بھی ایک ریگستان کا سفر ہے کہ جو عین گرمی اور تمازت آفتاب کے وقت کیا جاتا ہے۔ پس اس دشوار گزار راہ کے لئے باہمی اتفاق کے اس سرد پانی کی ضرورت ہے جو اس جلتی ہوئی آگ کو ٹھنڈی کر دے اور نیز پیاس کے وقت مرنے سے بچاوے۔ ایسے نازک وقت میں یہ راقم آپ کو صلح کیلئے بلاتا ہے جبکہ دونوں کو صلح کی بہت ضرورت ہے۔۔۔“ آپ ہندو اور مسلمان کو مخاطب ہیں ۔ آج میں بھی خصوصیت کے ساتھ ہندو اور مسلمان کو، پاکستان کے مسلمان اور ہندوستان کے ہندو کو مخاطب ہوتے ہوئے یہ کہتا ہوں ۔ ۔۔ جبکہ دونوں کو صلح کی بہت ضرورت ہے۔ دنیا پر طرح طرح کے وو ابتلاء نازل ہو رہے ہیں، زلزلے آرہے ہیں ، قحط پڑ رہا ہے اور طاعون نے بھی ابھی پیچھا نہیں چھوڑا اور جو کچھ خدا نے مجھے خبر دی ہے وہ بھی یہی ہے کہ اگر دنیا اپنی بدعملی سے باز نہیں آئے گی اور بُرے کاموں سے تو بہ نہیں کرے گی۔ تو دنیا پر سخت سخت بلائیں آئیں گی ۔ (پیغام صلح - روحانی خزائن جلد : ۲۳ صفحه: ۴۴۴) میں جو ہندوستان اور پاکستان کو بار بار عقل اور انصاف سے سمجھوتوں کی تعلیم دے رہا ہوں اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ مجھے اس دنیا میں آئندہ بہت بہت خوفناک ابتلاء اور جنگیں دکھائی دے رہی ہیں جو میں سمجھا ہوں کچھ قرآنی تعلیم پر مبنی ایسے ابتلاء ہیں جو عالمگیر ہوں گے اور بہت بڑی تباہیاں لائیں گے اور کچھ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات پر مبنی کچھ سیاسی حالات