خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 35 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 35

خطبات طاہر جلد ۱۲ 35 خطبه جمعه ۱۸ جنوری ۱۹۹۳ء گالیوں کی بوچھاڑ ہوئی قوم کے سردار نے آپ کے پیچھے غنڈے اور لفنگے لگا دیئے ، جھولیوں میں پتھر بھرے ہوئے تھے، منہ سے گالیاں بک رہے تھے اور آنحضرت پر پتھر برسا رہے تھے یہاں تک کہ خون بہتا بہتا جوتیوں میں چلا گیا اور اپنے اس خون کی دلدل سے پاؤں اٹھانا مشکل ہو رہا تھا بڑے صبر کے ساتھ ، بڑی ہمت اور حوصلے کے ساتھ اسی طرح حق کا پیغام دیتے ہوئے آپ اس بستی سے باہر نکلے۔ (الحلبیہ جلد اصفحہ: ۳۵۴) وہ وقت تھا جبکہ آدم اور خدا کا مکالمہ ایک حقیقت کے طور پر دنیا کے سامنے ابھرا ہے اور اس مکالمے کی صداقت کو پہچاننے کا اس سے بہتر کوئی وقت کبھی دنیا پر نہیں آیا۔ تو کونسا فساد تھا اور کون سا خون تھا جو بہایا گیا وہ اس سب سے سچے انسان کا، دنیا کے سب سے معصوم انسان کا خون تھا جو بہایا گیا تھا۔ اس نے کسی کا خون نہیں بہایا تھا فساد اس کے خلاف استعمال ہوا تھا۔ اس نے خود فساد بر پا نہیں کیا تھا۔ پس ہر شخص کا یہ حق ہے کہ وہ اس بات کا پیغام دوسرے کو پہنچائے جس کو وہ سچائی سمجھتا ہے اس کے نتیجہ میں اگر فساد برپا ہوتا ہے تو فساد برپا کرنے والے اس کے ذمہ دار ہیں خدا اور خدا کے نبی اس کے ذمہ دار نہیں ، پس اگر اس اصول کو سمجھ کر دنیا میں انصاف قائم کرنا ہے اور مذہبی آزادی کا حق دینا ہے تو تمام مذہبی فساد دنیا سے مٹ سکتے ہیں کیونکہ اس صورت میں اگر ایک کروڑ آدمی بھی ایک معصوم آدمی کے درپے ہوں گے تو ارباب حکومت جب تک اس حکومت پر فائز ہیں وہ ایک کروڑ کی مخالفت کریں گے اور اس ایک کے حق میں بولیں گے کیونکہ جب محمد رسول اللہ ﷺ کا خون طائف میں بہایا جا رہا تھا تو تمام دنیا کے اربوں انسان بھی اگر اس وقت آپ کے مخالف ہوتے تو خدا اور اس کے فرشتے ایک محمد کی تائید میں کھڑے ہو جاتے اور ان کروڑوں کو جھوٹا قرار دیتے اور ہلاک ہونے کے لائق قرار دیتے ۔ صلى الله یہ انصاف کا قانون ہے جو مذہب کی دنیا میں لازما لاگو کرنا ہو گا اس کے بغیر مذہبی دنیا میں امن قائم ہو ہی نہیں سکتا۔ یہی وہ انصاف تھا جس نے نوح کی قوم کے ساتھ ایک سلوک کیا ہے۔ عجیب انصاف ہے چند آدمیوں کی خاطر لاکھوں کو صفحہ ہستی سے ہمیشہ کے لئے کلیہ مٹا دیا گیا لیکن اس لئے کہ وہ فساد کے ذمہ دار تھے، نہ کہ وہ چند معصوم ۔ آج کل کی حکومتوں کا یہ قانون ہے کہ یہ دیکھو کہ دو متبادل گروہوں میں سے کمزور کون سا ہے اور طاقت ورکون سا ہے اور یہ تسلیم شدہ سیاسی اصول ہے کہ ہرگز کمزور کی خاطر خواہ وہ حق پر ہو طاقتو ر اکثریت سے مقابلہ نہیں کرنا ، اگر یہ اصول آپ کی سیاست کا