خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 378 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 378

خطبات طاہر جلد ۱۲ 378 خطبه جمعه ۱۴ مئی ۱۹۹۳ء کے ساتھ ہی آخرت کے عذاب کو بھی جوڑ دیا گیا ہے۔ فرمایا اس دنیا میں جہاں سزا دیتا ہے پھر آخرت میں بھی بعض سزائیں مقدر ہیں جب تم دنیا کی سزاؤں سے بچ نہیں سکتے تو کیسے گمان کر سکتے ہو کہ آخرت کی سزاؤں سے بچ جاؤ گے۔ پس قانون کے احترام کے لئے خدا کے تصور کا مضبوط ہونا انتہائی ضروری ہے اور دنیا کا قانون ہو یا آخرت کا قانون ہو حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لائے بغیر کسی قانون کو کوئی تحفظ نہیں ہو سکتا ورنہ انسان اگر خدا کی نظر سے اوجھل ہو جائے تو پھر ہر دوسری چیز سے اوجھل ہو سکتا ہے۔ ایک ہی نظر ہے جو ہر حال میں انسان کو پکڑتی اور دیکھتی ہے اور وہ خدا کی نظر ہے۔ پس جرائم سے بچنے کے لئے خدا کا وجود ضروری ہے اور خدا کا انکار کرنے والے جتنا مرضی زور مار لیں ناممکن ہے کہ وہ جرائم سے بچ سکیں۔ ایک ہی طریق ہے کہ خدا کی طرف واپس آؤ۔ اس سے سچی اور دائمی قوت ملتی ہے۔ اسی سے انسان گناہوں سے بچنے کی طاقت پاتا ہے اور ایک بہتر خوبصورت دلکش معاشرہ دنیا کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔ اب میں پاکستان کے احمدیوں سے مخاطب ہو کر مختصراً کہتا ہوں کہ مجھے پتا ہے کہ وہ اس شدید گرمی میں بھی بڑے جوش و خروش سے ، دور دور سے ان جگہوں میں اکٹھے ہوئے ہیں جہاں ڈش انٹینا کے ذریعہ یہ خطبہ سنا جا رہا ہے۔ پہلے مجھے ڈر تھا کہ کہیں یہ چار دن کا دلولہ نہ ہو اور اس کے بعد پھر اسی طرح اپنے گھروں میں سو جائیں جس طرح پہلے غفلتیں کیا کرتے تھے مگر ربوہ اور لاہور اور دوسرے گاؤں دیکھ کر آنے والے بعض جو مجھے ملتے ہیں ۔ ابھی کل ہی کچھ دوست ملے تھے وہ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس الفاظ نہیں جو ہم بیان کر سکیں کہ کس طرح اللہ کے فضل کے ساتھ یہ جوش اور یہ تعلق کا سلسلہ کم ہونے کی بجائے زیادہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور زیادہ مضبوط اور گہرا ہو رہا ہے۔ بعض جگہ یوں لگتا ہے کہ عید کی کیفیت ہے۔ تو میں ان سب کو جو آج اس خطبہ کو سننے کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان میں رزق حلال کے حق میں اگر آپ نے جہاد نہ کیا تو کوئی نہیں ہے جو یہ جہاد کرے گا۔ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ کسی شخص کو یا کسی پارٹی کو نام لے کر کچھ کہنا مناسب نہیں ہے مگر بعض صورتیں ایسی ہیں جن پر قرآن کریم کی یہ آیت صادق آتی ہے کہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم (۴۲) فساد خشکی پر بھی غالب آچکا ہے اور تری پر بھی غالب آچکا ہے۔ سمندر