خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 368
خطبات طاہر جلد ۱۲ 368 خطبه جمعه ۱۴ مئی ۱۹۹۳ء ضروری ہے اگر وہ اقتصادی بنیاد موجود نہ رہے تو وہ معیار زندگی کھو کھلا ہو کر یا تو گرے گا یا اس کو سہارا دینے کے لئے جھوٹ اختیار کرنا پڑے گا ، بد دیانتی اختیار کرنی پڑے گی، کئی قسم کے دھو کے اختیار کرنے پڑیں گے کہ کس طرح یہ معیار زندگی جو جھوٹا ہے اور جسے قائم رہنے کا حقیقتاً اقتصادی اصولوں کے مطابق کوئی حق نہیں اسے بہر حال قائم رکھا جائے ۔ یہ وہ حصہ ہے جس کے نتیجہ میں پھر اخلاق بڑی تیزی کے ساتھ کھائے جاتے ہیں اور کھو کھلے ہونے شروع ہو جاتے ہیں اور پھر منہدم ہو کر گرتے ہوئے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ قوموں کا صرف اقتصادی نہیں بلکہ اخلاقی دیوالیہ بھی پٹ جاتا ہے۔ پس جو دوسرا حصہ میں نے مغربی دنیا سے تعلق رکھنے والا بیان کیا تھا اس میں مشکل یہ ہے کہ ہم یعنی انسان اس وقت ایسے دور میں داخل ہو گیا ہے کہ جہاں ان کی اقتصادی ترقی اب کچھ عرصہ کے لئے رکے گی اور پھر تنزل اختیار کرے گی اور ان کے سامنے کئی ایسے چیلنج ہیں جو رفتہ رفتہ اس اشترا کی دنیا سے اٹھیں گے جو اشتراکی نظام سے تو بہ کر کے ان کی پیروی میں اب نئے نظام بنارہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تیسری دنیا کی جو مارکیٹیں ہیں ان میں خریدنے کی طاقت ہی بہت کم ہو چکی ہے۔ ان کا اقتصادی معیار بہت گر چکا ہے اور جس کو پہلی دنیا کہتے ہیں اس کے پیچھے پیچھے دوسری دنیا یعنی اشترا کی دنیا ہے جواب آزاد ہورہی ہے اس دنیا کا باہر کی مارکیٹوں سے کوئی بہت گہرا تعلق نہیں تھا بہت معمولی تعلق تھا۔ اب نئے اقتصادی نظام کے تابع ان کے اندر Production کی طاقتیں بڑھیں گی اور لازماً ان کو باہر کی دنیا میں منڈیاں ڈھونڈنی پڑیں گی اور باہر کی مارکیٹوں پر قبضہ کرنا ہوگا جس کے نتیجہ میں دنیا کی جو کل دولت ہے اس میں اضافہ نہیں ہو گا لیکن چیزیں بیچنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا اور یہ وہ خطرہ ہے جس کے نتیجہ میں پھر اخلاقیات پر ایک بہت گہرا اثر پڑتا ہے اور رزق حلال ایک دور کی چیز دکھائی دیتی ہے۔ پھر عملی دنیا میں ہر قوم میں یہ رجحان پیدا ہو جاتا ہے کہ چاہے دھو کے سے لو، بد عہدی کر کے اور ظلم کر کے لو، قوم کا اقتصادی معیار قائم رکھنے کے لئے ہر حالت میں تم باہر سے پیسہ کھینچا اور اپنے ملک کی طرف منتقل کرو۔ یہ قومی رجحان بنتا ہے اور انفرادی سطح پر آپ نے دیکھا ہوگا کہ خیالی معیار کو قائم رکھنے کے لئے یا فرضی طور پر لذتوں کے جو تصورات پیش کئے جاتے ہیں ان کی پیروی میں وہ عوام الناس جن کے پاس دولت نہیں ہے کہ اس قسم کے مزے کر سکیں وہ پھر چوریاں کرتے ہیں، ڈاکے ڈالتے ہیں، کاروں کے شیشے توڑتے ہیں اور رفتہ رفتہ پھر قتل و غارت پر بھی مجبور ہو