خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 367 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 367

خطبات طاہر جلد ۱۲ 367 خطبه جمعه ۱۴ مئی ۱۹۹۳ء کر بعض لوگوں کے ساتھ مل کر بعض لوگوں کو کھلا کر قومی دولت اپنی ذاتی کمائی میں تبدیل کر لیتی ہیں حالانکہ وہ قومی دولت ہے تو بعض دفعہ رزق حرام کھلا کھلا ، صاف دکھائی دیتا ہے۔ بعض دفعہ چھان بین کے بعد دکھائی دینے لگتا ہے لیکن میں نے جہاں تک جائزہ لیا ہے صرف مشرق کا معاملہ نہیں ہمشرق میں تو رزق حرام آج کل ماں کے دودھ کی طرح پیا جا رہا ہے لیکن مغرب میں بھی حرام رزق کھانے کی طرف توجہ بڑھتی جا رہی ہے اور یہ رجحان ان کی اقتصادی حالت خراب ہونے کا ایک طبعی نتیجہ ہے۔ قو میں دو قسم کی ہیں ایک وہ جو اپنی اخلاقیات کو خدا کے تصور سے باندھتی ہیں اور خدا کے تصور کے نتیجہ میں اپنا ضابطۂ حیات بناتی ہیں ۔ ان قوموں پر بھی غربت اثر انداز ہوتی ہے۔ چنانچہ آنحضور ﷺ نے فرمایا: كَادَ الْفَقْرَآنُ يَكُونَ كُفْراً (شعوب الایمان للبیہقی جلد ۵ صفحه: ۲۶۷) کہ دیکھو خبر دار یہ خطرہ ہے کہ تمہاری غربت کفر میں تبدیل نہ ہو جائے ۔ غربت کے ساتھ بعض خرابیاں لگی ہوئی ہیں اور اخلاق آزمائے جاتے ہیں اور زیادہ سختی سے آزمائے جاتے ہیں اور خطرہ ہے کہ غربت کی حالت میں وہ اخلاق جو خدا کے تصور سے وابستہ ہیں ان کو بھی گزند پہنچ جائے ۔ پس ایسی قو میں ہیں جہاں خدا کا تصور تو موجود ہے اور خدا کے تصور سے اخلاق کے مضمون باندھے ہوئے ہیں لیکن ایک غربت کی وجہ، دوسرے خدا کا تصور فرضی زیادہ ہے حقیقی کم ہے، کیونکہ غربت میں بھی اگر خدا دل میں موجود ہو تو انسان کی اخلاقی حالت کی غیر معمولی حفاظت ہوتی ہے اور امیر آدمی کے پاس بھی اگر خدا نہ ہو تو اس کی اخلاقی حالت کی کوئی ضمانت نہیں ۔ پس ایک تو وہ لوگ ہیں جن کا اخلاقیات کا نظام خدا سے وابستہ ہے اور ایسی قوموں میں چونکہ خدا کا تعلق کم ہو رہا ہے۔ اعتقاد عملاً اٹھ رہا ہے اور دوسرے بہت سے ایسے علاقے ہیں جو غریب علاقے کہلاتے ہیں اس لئے وہاں بد دیانتی بڑھ رہی ہے اور امیر ممالک میں اقتصادی آزمائش کا دور شروع ہو چکا ہے ۔ امیر ممالک کی مشکل یہ ہے کہ یہاں ایک فرضی اور خیالی معیار زندگی بنا کر اسے اونچا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہر وہ سیاسی پارٹی جو معیار زندگی اونچا کرنے کا دعویٰ لے کر آئے اس کو ووٹ زیادہ ملتے ہیں ۔ اس لئے یہاں یہ کوشش ہی نہیں کی جاسکتی کہ معیار زندگی کو گرا کر اقتصادی حالت کے مطابق کیا جائے۔ پس یہ ایک ایسی دوڑ ہے جس کے نتیجہ میں جب ایک کھوکھلا معیار زندگی قائم ہو جائے جسے حقیقتا ملک کی اقتصادیات پورا سہارا نہ دے سکیں کیونکہ ہر معیار زندگی کے نیچے ایک اقتصادی بنیاد ہونی