خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 197 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 197

خطبات طاہر جلد ۱۲ 197 خطبه جمعه ۱۲ مارچ ۱۹۹۳ء پس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ حضرت محمد مصطفی ﷺ ہی کی حمد وہ حمد ہے جس کا اَلْحَمْدُ لِلہ میں ذکر ہے یعنی وہ کامل حمد ، وہ کامل شعور کے ساتھ ، کامل عرفان کے ساتھ کی جاتی ہے جس میں حمد کرنے والاحمد کے ان تجارب سے گزرتا ہے جن تجارب کے نتیجے میں اُس کا لمحہ لمحہ اللہ کی حمد بن جاتا ہے۔ وہ گواہی دیتا ہے اُس حمد کی اصلى الله علوم اور عظیم حمد کے مقام پر حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ ہی کو فائز فرمایا گیا اور اس اعلیٰ مقام با ہر دوسرے کو صلى الله اور اس اعلیٰ مقام میں آپ نے رے کو حمد سے خالی کر دیا یہاں تک کہ اپنے وجود کو بھی ، پس یہ مقام انکساری کا بھی ! انتہائی مقام ہے۔ ایک محمد مصطفی ﷺ ہی ہیں جنہوں نے حمد باری تعالیٰ کے وقت اپنے وجود کو حمد سے خالی کیا ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے آپ روزمرہ کے اپنے تجربے میں اگر اپنی حمد کا تجزیہ کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ آپ کی حمد کے ساتھ ساتھ ، جو خدا کی حمد کے گیت گاتے ہیں ، آپ کی اپنی حمد کی بھی ایک کے ساتھ شامل رہتی ہے اور جب بھی یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فضل کیا کہ یہ کام یوں ہو گیا ، ساتھ اپنی کسی چالا کی کا بھی تذکرہ چل رہا ہوتا ہے کہ مجھے توفیق ملی ، میں نے یہ کام کر دیا۔ مراد یہ ہے کہ میں اتنا ہوشیار ہوں اور احتیاطاً خوف کے مارے، اللہ کی حمد کے گیت گاتا ہے کہ خدا ناراض نہ ہو جائے کہ تم نے سارا سہرا اپنے سر ہی باندھ لیا اور کہتے ہیں کہ اے اللہ تیری وجہ سے ہوا ہے لیکن دل میں جانتا ہے اور اس بات کو خوب اچھی طرح سمجھتا ہے یعنی غلط سمجھتا ہے مگر سمجھتا ہے کہ میں نے یہ ہوشیاری کی ، میں نے یہ کام کیا، میں نے بروقت فلاں کارروائی کی۔ اس کے نتیجے میں یہ کام ہوا ہے مگر اللہ تعالی بہر حال آخری قدرت رکھنے والا ہے اس کی حمد کے گیت گانا ضروری ہے۔ یہ مضمون اس طرح کھلا کھلا بہت سے لوگوں پر صادق آتا ہے لیکن جو حمد میں ترقی کرتے ہیں اُن کے ہاں اس مضمون کو پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ نفس کی حمد کی آواز نسبتاً کمزور ہوتی چلی جاتی ہے اوسطاً نیچے اترتے ہوئے ڈوبتی چلی جاتی ہے لیکن کچھ نہ کچھ ضرور حمد اس کی باقی رہتی ہے۔ میں نے بسا اوقات اپنی دعاؤں میں یہ تجزیہ کر کے دیکھا ہے اور اس خوف سے لرز اٹھا کہ اپنی طرف سے جب میں نے اپنے آپ کو حمد سے خالی کر کے دعا کی۔ تب بھی کوئی نہ کوئی رخنہ مجھے کہیں نہ کہیں دکھائی دیا کہ جسے صاف اور پاک کرنا ضروری تھا۔ پس جو کوشش ایک عام انسان بڑی محنت اور توجہ سے کرتا ہے اور خبر داری کے ساتھ کرتا ہے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ذات میں یہ ایک طبعی ایک سیل رواں کی طرح جاری چیز تھی آپ کا