خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 196 of 1087

خطبات طاہر (جلد 12۔ 1993ء) — Page 196

خطبات طاہر جلد ۱۲ 196 خطبه جمعه ۱۲ مارچ ۱۹۹۳ء محمود کیا ہے اور کیا یہ وعدہ پورا ہوا یا ہونا باقی ہے؟ اور اس کی کیا نوعیت ہے، کس طرح وعدہ پورا ہو گا ؟ یہ بہت ہی تفصیلی اور گہر ا مضمون ہے۔ اس کے متعلق پہلے میں بار ہ ذکر کر چکا ہوں لیکن یہ مضمون ابھی بھی تشنہ ہے۔ مختصراً میں اس وقت صرف یہ بتانا چاہتا اہتا ہوں کہ ان آیات کریمہ میں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ تو راتوں کو اٹھ کر تہجد ادا کیا کر۔ یہ تیری طرف سے صلى نوافل ہوں گے اور قریب ہے کہ خدا تعالیٰ تجھے اُس مقام محمود پر فائز فرمادے جس کا تجھ سے وعدہ کیا گیا ہے۔ مقام محمود سے مراد ہے حمد کا مقام اور حمد کا گہرا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہے۔ پس مقام صلى الله عروسة محمود ایک ایسے مقام کا نام ہے جو محمد مصطفی ﷺ کی حمد و اللہ تعالیٰ کی حمد کی صف میں اس طرح مدغم کر صلى الله ے پہلو سے دیکھیں تو خدا دکھائی دے کہ ایک پہلو سے دیکھیں تو محمد مصطفی یہ دکھائی دیں اور دوسرے پہلو سے دیا علوسم دے یعنی حمد ایک دوسرے کے ساتھ مل کر اس طرح یک جان ہو جائیں کہ ایک کو دوسرے سے الگ نہ کیا جا سکے۔ من تو شدم تو من شدی والا مضمون ہے کہ میں تو ہو جاؤں اور تو میں ہو جائے اور جب حمد اس درجہ ترقی کر جاتی ہے کہ حمد کرنے والا اپنے وجود کو کلیہ کھو دیتا ہے اور اُس کا وجود اپنی حمد سے خالی ہو جاتا ہے۔ تبھی یہ مقام نصیب ہو سکتا ہے اُس کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ عروسه پس اس پہلو سے اگر دیکھیں تو یہ مقام تو حضرت اقدس محمد مصطفی یا اللہ کو پہلے سے نصیب ہو چکا ہے اور آپ کا نام احمد رکھا رکھا ہی اس غرض سے گیا اور سورہ فاتحہ میں اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحہ : ۲) میں بھی یہ مضمون بیان ہوا جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا الْحَمْدُ دو طرح سے پڑھا جاتا ہے ایک فاعلی حالت میں اور مفعولی حالت میں ۔ الْحَمْدُ لِلَّهِ کا ایک مطلب یہ ہے کہ کامل حمد اللہ ہی کے لئے ہے اور کسی پر سختی نہیں ۔ جتنا مرضی تم زور لگا ڈ الوحمد کا مضمون خدا کے سو مون خدا کے سواکسی اور ذات پر صادق ہی نہیں آ سکتا۔ ایک یہ معنی بھی ہے اور دوس یہ کہ خدا کے سوا کوئی حمد کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتا۔ حمد وہ جو خدا کرے ورنہ بندے کی حمد کی کیا قیمت ہے اور کیا حیثیت اور کیا حقیقت ہے؟ نہ وہ حقیقت میں عالم الغیب ہے اور نہ عالم الشہادہ ہے ۔ دھوکے کی دنیا میں رہتا ہے، خود کو دھو کے دے رہا ہے۔ لوگوں کے دھوکوں اور فریبوں کا شکار رہتا ہے اس لئے کسی کی حمد کسی انسان کے لئے کچھ بھی معنی نہیں رکھتی ۔ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ ہاں حمد ہو تو خدا کی حمد ہو جس کی خداحمد کرے۔ دوسرا