خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 811
خطبات طاہر جلدا 811 خطبه جمعه ۱۳ نومبر ۱۹۹۲ء دو عورتوں کی مثالیں ہیں۔ ایک مریم کی اور ایک امْرَأَتَ نُوح کی۔ تو آپ نے اپنے لئے اعلیٰ مثال تو نہیں چنی اس پر تو آپ نے مذاق شروع کر دئے ہیں۔ مریم کی مثال تو آپ نے مسیح موعود علیہ السلام کے لئے رہنے دی ہے تو اگر آپ مومن ہیں تو آپ کیلئے مفر نہیں ہیں اس بات سے کہ اعلیٰ مثال نہیں چنتے تو کم سے کم ادنی مثال ہی اپنے اوپر صادق کر کے دکھائیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تو مریمی حالت میں سے گزر کر اس روحانی پاکبازی کا نمونہ دکھا دیا جس میں شیطان کے مس کے بغیر روحانی اولاد نصیب ہوتی ہے اور کوئی ذاتی تمنا کوئی ذاتی خواہش، کوئی گندا جذ بہ جو شیطان سے نکلتا ہے اس روحانی ولادت میں اپنے کارفرما نہیں ہوتا۔ ورنہ ہزار ہا لوگ ایسے ہیں جن کو تمنا ہوتی ہے که روحانی ترقی کریں نفس ان کو دھو کے دیتا کئی قسم کے توہمات الہامات بن جاتے، کئی قسم کے پیغامات کا غلط مطلب نکالتے اور اپنے مراتب بڑھاتے رہتے ہیں مگر خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومن کی مثال مریم کی ہے۔ مریم نے کسی ناپاکی کے خیال کو دل میں نہیں آنے دیا اور اس کے باوجود خدا تعالیٰ نے اس کو ایک روحانی بچہ عطا فر مایا۔ تو مومن کی ہر ترقی دل کی پاکیزگی سے وابستہ ہوتی ہے۔ اس میں غیر اللہ کا اور شیطان کا کوئی دخل نہیں ہوتا میں نے کہا ان معنوں میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے آپ کو وہ کامل مومن ثابت کر دکھایا جس کی اعلیٰ مثال مریم کی سی ہے۔ آپ اس کو قبول نہیں کرتے ۔ اب میں آپ کے الفاظ میں پوچھتا ہوں کہ اگر آپ فرعون کی بیوی بنتے ہیں تو فرعون نے آپ سے کیا کیا؟ اور کیسی کیسی گزری آپ پر واردات جس طرح آپ نخروں سے مسیح موعود پر اعتراض کرتے اور مجھ سے پوچھ رہے تھے اب اسی مجلس میں آپ اپنی داستانیں سنائیے۔ اچانک مجلس کا مزاج الٹ گیا اس کے اوپر ۔ وہ لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ہنسنے کی تیاری کر رہے تھے وہ مولوی صاحب کی طرف دیکھتے تھے اور ہنستے تھے اور کہتے تھے کہ بھاگ جاؤ اب یہاں سے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ قرآن کریم کو گہرائی کی نظر سے دیکھا جائے تو اس میں بہت گہرے مطالب ہیں اور تمام احاد بہ اور تمام احادیث نبویہ اور تمام پاکبازوں کے فرمودات قرآن کریم میں جڑ رکھتے ہیں اس لئے بد بخت اور بد نصیب ہے جو پاک لوگوں کے کلام پر بنسی اور ٹھٹھے میں جلدی کرتا ہے۔ بعض دفعہ وہ کلام سمجھ نہیں آتا اور عجیب محسوس ہوتا ہے لیکن اگر انسان کو یہ بنیادی حقیقت معلوم ہو کہ خدا کے بندوں کی باتیں خدا کے کلام میں اپنی جڑیں رکھتی ہے وہیں سے پھوٹتی ہے تو انسان تلاش کرے تو اس جڑ