خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 810 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 810

خطبات طاہر جلد اا 810 خطبه جمعه ۱۳ نومبر ۱۹۹۲ء کی یہ تقدیر جاری ہو جائے اور یہ فیصلہ سنا دیا جائے کہ وہ بھی اگر خیانت کریں گی تو اس خیانت کی جزا ان کو ضرور ملے گی اور قیامت کے دن نبی کے ساتھ رشتہ ان کے کام نہیں آئے گا تو تمام دنیا کی عورتوں کیلئے اور تمام دنیا کے مردوں کے لئے اس میں بڑا پیغام ہے۔ مسلمانوں کو اور مومنوں کو مخاطب یہاں نہیں فرمایا یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے اور احسان ہے اور ایک طرز بیان ہے کہ مومنوں سے تو میں ایسی توقع نہیں رکھتا اس لئے کافروں کے لئے یہ میں مثال دیتا ہوں گویا کہ ایمان اور اس قسم کی خیانتیں ایک جگہ اکٹھی نہیں ہو سکتی۔ دوسرے لفظوں میں ایسا شخص جو اس قسم کی خیانت میں مبتلا ہو، اس حالت میں مومن نہیں رہتا اور کافروں پر ہی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ اب دیکھیں قرآن کریم کی آیات کا احادیث سے کتنا گہرا تعلق ہے۔ ایک دوسرے موقع پر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص یہ گناہ کرتا ہے اس وفہ رتا ہے اس وقت وہ مومن نہیں ہوتا ( ترمذی کتاب الفتن حدیث نمبر : ۲۱۰۵) اس کی سند اسی آیت کریمہ میں ہے۔ یہ خیانت ایسی خیانت ہے جس کے متعلق فرمایا گیا کہ یہ مومنوں پر صادق ہی نہیں آتی ۔ یہ کافروں پر مثال صادق آئے گی ۔ مومنوں کیلئے جو مثال چنی اس کے بالکل برعکس ایک ایسی عورت کی چینی جو پاکبازی میں ایک تمثیل بن گئی ۔ یعنی حضرت مریم علیہ الصلوۃ والسلام۔ حضرت مریم کو پاکبازی کا ایک سب سے اعلیٰ و ارفع نمونہ عورتوں میں بنا کر پیش فرمایا اور مومنوں کو کہا کہ تمہارے لئے یہ ایک تمثیل ہے، یہ نمونہ ہے اس کو اختیار کرو۔ اس مضمون میں اور بھی بہت سی باتیں ہیں آسیہ کو کیوں چنا گیا اس کی کیا وجوہات ہیں۔ یہ صاحب عرفان کے لئے غور کی بہت سی باتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ اس میں عظیم الشان پیغامات ہیں۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ ایک پاکستان کا ملاں سوال و جواب کی مجلس میں آیا اس نے بڑے طنز کے ساتھ یہ سوال اٹھایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق کہ مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ ایک وقت ایسا آیا کہ میری مریمی حالت ہوگئی اور اس مریمی حالت میں بہت تکلیف میں سے میں گزرا اور پھر میرے روحانی بچہ ہوا اور وہ مسیح ہے جو میں ہوں تو بہت اس نے نمک مرچ لگایا اور بڑے نخروں کے ساتھ یہ اعتراض اٹھایا۔ بڑی بھاری مجلس تھی سینکڑوں آدمی اس میں شامل تھے اور اس نے مجلس کے مزاج کو بگاڑ نے کے لئے بہت ہی طنز کے ساتھ کام لیا۔ تو اس نے کہا کیا کیا گزری ان کے اوپر ، مرزا صاحب کے کس طرح بچہ ہوا اور کس طرح حمل ٹھہرا، کس کا حمل تھا وغیرہ وغیرہ۔ میں نے اس سے کہا کہ مولوی صاحب آپ نے بات ختم کر لی اب مجھ سے میری بات سن لیجئے ۔ قرآن کریم نے یہ فرمایا ہے کہ مومنوں کیلئے