خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 568
خطبات طاہر جلداا 568 خطبه جمعه ۱۴ راگست ۱۹۹۲ء صلى الله کچھ دوں تو وہ فورا اٹھ جائے گا ور نہ اُس وقت جب بچہ خاص طور پر آنحضور ﷺ کی مجلس میں بیٹھا ہوا تھا تو عروسه صلى ال اُس کے لئے اُٹھنا بڑا مشکل تھا تو ماں نے کہا آؤ میں تمہیں کچھ دیتی ہوں ۔ تو معاً آنحضور ماں کو ولوسم مخاطب کر کے فرمایا کہ کیا دینے کا ارادہ ہے؟ تو ماں نے کہا کہ حضور! کھجور دوں گی ۔ آپ نے فرمایا اگر تو اسے کچھ نہ دیتی تو جھوٹ لکھا جاتا ۔ (سنن ابوداؤ د کتاب الاداب حدیث نمبر : ۴۳۳۹) صلى الله دیکھیں کتنی بار یک باتوں میں آنحضور ﷺ نے کتنی گہری توجہ سے تربیت فرمائی ہے۔ ہمارے گھروں میں جو روزمرہ جھوٹ کی فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں وہاں ابتداء میں خام مال اسی طرح تیار ہوتا ہے۔ مائیں بھی اور باپ بھی اور بڑی بہنیں بھی اور بھائی بھی چھوٹے بچوں سے جھوٹے وعدے کرتے ہیں کہ آؤ! میں تمہیں یہ دوں گا۔ آؤ! میں تمہارا یہ کام کر دوں گا اور اکثر جھوٹ ہوتا ہے یہاں تک کہ بچے پھر اپنے ماں باپ کی ذہنیت کو خوب اچھی طرح سمجھ جاتے ہیں اور ان پر قطعاً کوئی اعتبار نہیں کرتے ۔ اس وقت تو وہ سچ کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں اور ماں باپ جھوٹ کی نمائندگی کر رہے ہوتے ہیں لیکن بد نصیبی یہ ہے کہ جب جب بڑے ہوتے ہیں تو پھر یہ معاملہ الٹ ہو جاتا ہے ۔ ماں باپ جھوٹے بھی ہوں تو تمنائیں نیک رکھتے ہیں ۔ بچے شروع میں بظاہر سیچ کی نمائندگی کر رہے ہوں لیکن بالآخر بڑے ہو کر جھوٹے بن جاتے ہیں جن کی تربیت اس رنگ میں ہو وہ جھوٹ اختیار کر جاتے ہیں۔ اس وقت پھر ماں باپ واویلا کرتے ہیں کہ ہائے تجھے کیا ہو گیا، تو کیا نکلا، میں تو تجھے نیک دیکھنا چاہتا تھا یا نیک دیکھنا چاہتی تھی ۔ اگر دیکھنا چاہتے تھے تو ویسے اعمال کرتے ، ویسی تربیت کرتے جیسا چاہتے تھے لیکن روزمرہ کی زندگی میں عملاً یہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جو دلوں میں، نیتوں میں جھوٹ کے پودے لگا رہی ہوتی ہیں اُس وقت وہ دکھائی نہیں دیتے۔ نشو و نما پاتے ہیں۔ بڑے ہوتے ہیں۔ تناور درخت بن جاتے ہیں اور ساری سوسائٹی جھوٹ کے سائے تلے آجاتی ہے۔ پس دیکھئے! حضور ﷺ نے کتنی پاکیزہ اور کیسی سادہ نصیحت فرمائی ہے۔ فرمایا کہ اگر تو کچھ نہ دیتی ، تیری نیت میں یہ نہ ہوتا تو تجھ پر جھوٹ لکھا جاتا ۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ معمولی معمولی، چھوٹے چھوٹے عذر بھی خدا کے نزدیک جھوٹ لکھے جاتے ہیں۔ اور انسان کا نامہ اعمال اسی طرح سیاہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ بہت پرانی بات ہے ایک دفعہ قادیان میں ایک ماں باپ اپنے بچے کے ساتھ سیڑھیاں چڑھ رہے تھے، میں پیچھے پیچھے تھا۔ بچے کے ہاتھ میں ایک پونا گنا تھا جو ذرا لمبا تھا۔ اس لئے وہ کونوں