خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 567
خطبات طاہر جلداا 567 خطبه جمعه ۱۴ راگست ۱۹۹۲ء ہیں، اس لئے یہ جو ذکر فرمایا گیا کہ نہیں دیکھ سکتے ، یہ عام لوگوں کا ذکر ہے۔ عامۃ الناس کا ذکر ہے لیکن اگر تم جستجو کی کوشش کرو، پہچان کی کوشش کرو۔ خدا سے تعلق ہو اور دعا کرتے ہوئے کوشش کرو تو شیطان اپنی ہر کمین گاہ میں نگاہ ہو سکتا ہے ہر جگہ پہچانا جا سکتا ہے۔ سکتا ہرجگہ جاسکتا منافقت کی باتیں بہت ہوتی ہیں ۔ آنحضرت ﷺ نے منافق کی ایک پہچان بیان فرمائی۔ آپ نے چار بیان فرمائیں کہ یہ اگر کسی میں پائی جائیں تو وہ منافق ہے۔ اول جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔ دوسرے جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے۔ تیسرے جب جھگڑا کرے تو گالیاں بکے۔ چوتھے جب عہد کرے تو عہد شکنی کرے۔ (بخاری کتاب الایمان حدیث نمبر (۳۲) ایک جگہ تین باتیں بیان ہوئی ہیں ۔ وعدے کرے تو وعدہ خلافی کرے، اور عہد کرے تو عہد شکنی کرے ، یہ دراصل ایک ہی بات کی دو شاخیں ہیں یعنی دونوں میں ایک بار یک فرق ہے ورنہ بنیادی طور پر ایک ہی بات ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جنوبی افریقہ کی عدالت میں جب احمدی گواہ پر مد مقابل نے ایک دفعہ یہ صلى الله الزام لگایا کہ تم منافق ہو اور جماعت احمد یہ منافق ہے ۔ یہ اوپر سے کلمہ پڑھتی ہے اور اندر سے کچھ اور سوچتی ہے تو انہوں نے یہی حدیث پیش کی اور اس کا سہارا لے کر عدالت کے سامنے اُس کے چھکے چھڑا دیئے۔ انہوں نے فرمایا کہ احمدی سوسائٹی بھی یہاں موجود ہے۔ تمہاری سوسائٹی جس کو تم غیر منافق کہہ رہے ہو وہ بھی موجود ہے۔ میں آنحضرت ﷺ کی پیش کردہ تین نشانیاں تمہارے سامنے رکھتا ہوں عدالت عالیہ کا کام ہے کہ دونوں سوسائٹیوں کا جائزہ لے کر دیکھے کہ کون سی منافق سوسائٹی ہے اور کون سی نہیں ۔ جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب بحث کرے تو گالیاں بکنا شروع کر دے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے۔ تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسی دلیل کے نتیجہ میں اُسے بہت بڑی فتح نصیب ہوئی کیونکہ وہاں کی سوسائٹی کی جو عام برائیاں ہیں وہ سب کو معلوم ہیں اور بد نصیبی سے ان لوگوں میں جو ان کے مد مقابل تھے یہ تینوں باتیں پائی جاتی ہیں۔ صلى الله حضرت عبداللہ بن عامر بیان فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ ایک دن ہمارے گھر میں موجود تھے کہ میری امی نے مجھے یہ کہا کہ آؤ تمہیں کچھ دیتی ہوں ۔ عام طور پر مائیں یا بعض دفعہ باپ یہ ۔ پر یا بھی کسی بچے کو مجلس سے اُٹھانا ہو تو کوئی بہانہ بنا کر اُٹھا دیتے ہیں اور چھوٹے بچے کو کہا جائے کہ آؤ میں تمہیں