خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 535
خطبات طاہر جلد اا 535 خطبہ جمعہ ۷ را گست ۱۹۹۲ء جھوٹ سے کلیہ پر ہیر تو حید کامل سے تعلق جوڑنے کے مترادف ہے۔ جھوٹ سے بچیں اور دنیا کو بچائیں اسی میں ہماری نجات ہے۔ ( خطبه جمعه فرموده ۷ را گست ۱۹۹۲ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے درج ذیل آیات کریمہ تلاوت کی ۔ وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَإِنَّهُ يَتُوبُ إِلَى اللَّهِ مَتَابًا وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ ونَ الزُّورَ وَ إِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُ وا كِرَامًا (الفرقان: ۷۲ تا ۷۳) پھر فرمایا :۔ چند خطبات پہلے تبتل الی اللہ کا مضمون بیان ہورہا تھا اور میں نے بیان کیا تھا کہ تبتل الی الله کا توحید سے بہت گہرا تعلق ہے۔ انسان اس وقت تک موحد نہیں ہو سکتا۔ حقیقت میں ایک خدا کا عبادت کرنے والا نہیں کہلا سکتا ج والا نہیں کہلا سکتا جب تک پہلے لا الہ کا مضمون سمجھ کر ہر جھوٹے خدا کا انکار نہ کر دے۔ پھر اس پر خدا کی وحدت کا رنگ جمتا ہے اس کے بغیر محض فرضی طور پر انسان موحد کہلاتا ہے حقیقت جمتا کے بغیر میں توحید کے فلسفہ اور اس کی روح سے لا بلد رہتا ہے۔ چونکہ یہ ایسا مضمون ہے جس کا روز روز مرہ کی زندگی میں ہر انسان کا کا گہرا تعلق ہے محض فا فلسفیانہ بیان کافی نہیں ہے کیونکہ مختلف قسم کے انسان ہیں۔ ایک بات ایک ذہین اور تعلیم یافتہ انسان کو سمجھ آجاتی ہے، ایک عام آدمی کو سمجھ نہیں آسکتی۔ اس لئے جہاں تک معارف قرآن کا تعلق ہے ان کا لطف