خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 534
خطبات طاہر جلداا 534 خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۹۲ء مغلوب ہو تو نرم ہاتھوں کے ساتھ پانی کے چھینٹے دیا کرتے تھے (ابن ماجہ کتاب اقامة الصلوۃ : ۱۳۲۵) اس طرح اُس کی آنکھ کھل جائے ۔ جو بھی طریقہ ہے اخلاق کا طریقہ ہونا چاہئے ، گالی گلوچ کا نہیں، جائے۔ طریقہ ہے طعن و تشنیع کا نہیں ، وہ صاحب جنہوں نے مجھے لکھا تھا ایک موقع پر میں نے اُن کو بھی سمجھایا تھا کہ آپ اب غیر نہیں ہیں ، آپ تو احمدی ہو چکے ہیں آپ کو کیسے خیال آیا کہ پاکستان کے احمدی آپ سے زیادہ اسلام پر حق رکھتے ہیں، اسلام تو سب کا ہے اگر آپ نے اپنے کمزور بھائی کو دیکھا تو محبت اور پیار سے اُس کو سمجھانا چاہئے تھا پانی کے چھینٹے دیتے ، اس کی منت کرتے ، اُسے کہتے کہ میاں تم خوش نصیب ہو کہ اسلام میں پیدا ہوئے تمہیں تو چاہئے تھا کہ تم مجھے اسلام سکھاتے ، میں بعد میں آنے والا ہوں اور میں تمہیں سکھا رہا ہوں ۔ غرض کہ تمہارے لئے ٹھوکر کا کوئی سوال نہیں تھا اگر تم ٹھو کر کھاتے ہو انسانوں سے تو تم ابھی تک خدا کے نہیں ہوئے ، جو خدا کا ہو جائے اس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے لَا انفِصَامَ لَهَا (البقرہ: ۲۵۷) ۔ ایسے بِالْعُرْوَةِ پر اُس نے ہاتھ ڈال دیا ہے کہ مضبوط کڑے پر اُس کا ہاتھ پڑ چکا ہے کہ کوئی دنیا کی طاقت اُس ہاتھ کو تو ڑ نہیں سکتی، کسی انسان کی اخلاقی کمزوری اُس کے دین کو نقصان پہنچا نہیں سکتی۔ پس اپنے دین کو ایسا مضبوط بنائیں کہ کسی شخص کا گندے سے گندا کردار بھی آپ کو متزلزل نہ کر سکے اور اپنے دین کو ایسا بنائیں کہ ڈولتے ہوؤں کو سنبھالیں اور اُن کو سہارا دیں۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔ نشہ پلا کے گرانا تو سب کو آتا ہے مزا تو تب ہے گرتوں کو تھام لے ساقی پس آپ بھی گرتوں کو تھامنے والے بنیں دنیا کو گرانے والے نہ بنیں۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔ آمین ثم آمین