خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 437 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 437

خطبات طاہر جلد !! 437 خطبه جمعه ۲۶ جون ۱۹۹۲ء صلى الله فرمایا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے اسم قاسم کا بھی یہی سر ہے ۔۔۔۔ 66 آپ کو جو تقسیم کرنے والا بیان فرمایا ہے اس میں بھی یہی راز ہے فرماتے ہیں: دو ۔۔۔ آپ اللہ تعالیٰ سے لیتے ہیں اور پھر مخلوق کو پہنچاتے ہیں پس مخلوق کو پہنچانے کے واسطے آپ کا نزول ہوا ۔ ۔۔۔ 66 یعنی تقسیم کرنے سے پہلے خدا تعالیٰ آپ کی جھولی میں روحانی رزق ڈالتا ہے تو آگے آپ تقسیم کرتے ہیں اس کا نام ہے قاسم پھر فرمایا۔ ۔۔۔ اس دَنَا فَتَدَٹی میں اسی صعود اور نزول کی طرف اشارہ کیا صلى الله گیا ہے اور یہ آنحضرت ﷺ کے علو مرتبہ کی دلیل ہے ۔ ۔۔۔ 66 ( ملفوظات جلد چہارم صفحه : ۳۵۶) آج کا مضمون میں یہیں تک پہنچا کر میں جماعت کو مختصر یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اگر آپ نے حقیقی معنوں میں داعی الی اللہ بنا ہے تو وہ سارے ذرائع جو میں آپ کے سامنے بیان کرتا رہا ہوں اور جدو جہد کے وہ تمام طریق جو آپ کو سمجھاتا رہا ہوں ان کو اختیار کریں لیکن ان ذرائع اور ان طریقوں میں جان تب پڑے گی اگر آپ کے اندر آسمان سے خدا تعالیٰ کی محبت کی جان پڑے گی اگر وہ جان آپ : پ میں نہ پڑی تو وہ سارے ذرائع بریکار ہوں گے وہ مٹی کی مورتیں ہوں گی جن میں نفس نہیں پھونکا گیا ۔ پس جب تک اللہ تعالیٰ کی ذات سے آپ کی ذات میں اور آپ کی کوششوں میں امر نہ پھونکا جائے اس وقت تک آپ زندہ نہیں ہو سکتے اور آپ کی کوششیں بالکل بیکار اور بے معنی ہوں گی ۔ پس آپ کو لازم ہے کہ اس جدوجہد میں خدا تعالیٰ سے زندگی حاصل کرنے کی کوشش کریں اور خدا تعالیٰ سے زندگی حاصل کرنے کا راز یہ ہے کہ دنیا کے تعلقات پر موت وارد کریں ایک حصہ ایک طرف سے مرے گا تو دوسری طرف سے زندہ ہو گا ۔ جب تک موت اور زندگی کا یہ سلسلہ جاری نہیں ہوتا اس وقت تک ایک احمدی حقیقت میں داعی الی اللہ بننے کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ حق ادا کرنا تو بہت دور کی بات ہے اس سفر کا کوئی قدم بھی اس کو نصیب نہیں ہو سکتا۔ یہ تو ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی سعید فطرت کو اس کی وجہ سے اس کی دعوت پر حق پانے کی توفیق عطا فرمادے لیکن ایسی دعوت جس کے نتیجہ میں غیر تو زندگی پا رہے ہیں اور انسان خود زندگی سے محروم ہو، یہ کیسی محرومی کی دعوت ہے کیسی بدنصیبی کی دعوت ہے۔ یہ تو