خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 421 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 421

خطبات طاہر جلدا 421 خطبه جمعه ۱۹ جون ۱۹۹۲ء کے وہم و گمان میں بھی یہ عبارت نہیں آسکتی۔ فرماتے ہیں۔ اگر چہ تمام وجود کھونے سے حاصل ہو ۔اے محرومو! اس چشمہ کی طرف دوڑو کہ وہ تمہیں سیراب کرے گا۔ یہ زندگی کا چشمہ ہے جو تمہیں بچائے گا۔ میں کیا کروں اور کس طرح اس خوشخبری کو دلوں میں بٹھا دوں ، کس دف سے میں بازاروں میں منادی کروں کہ تمہارا یہ خدا ہے تا لوگ سن لیں اور کس دوا اہے سے میں علاج کروں تا سننے کے لئے لوگوں کے کان کھلیں ۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه : ۲۱-۲۲) یہ ہے دعوت الی اللہ اور اس طرح دعوت الی اللہ کے مضمون کا حق ادا ہوتا ہے۔ ہر بلانے والے کو کچھ نہ کچھ ضرور پانا ہوگا ۔ اگر اس کی رسائی افق اعلیٰ تک نہیں تو جس کی رسائی ہے اس کے پیچھے چل کر کچھ نہ کچھ ! کچھ نہ کچھ بلندیاں اسے ضرور حاصل کرنی ہوں گی ، اس چشمہ سے کچھ نہ کچھ سیراب ہونا تو اس کے لئے لازم ہے ورنہ اس دعوت میں نہ جان پڑے گی نہ اس میں صداقت کی وہ عظمت ہوگی جو بڑی قوت کے ساتھ لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ یہ مقناطیسی طاقت ایک حقیقت ہے اور اسی کو ملتی ہے جس کا مقناطیس سے رابطہ پیدا ہو جائے۔ پس اپنے اندر وہ آہنی صفات پیدا کریں جو مقناطیس سے رابطہ ہو جڑ کر آپ کو مقناطیس بنادیں اور مقناطیس کے قریب ہونے کی کوشش کریں پھر ان صفات کی جلوہ گری آپ ہوگی میں ہو گی جن صفات کا ذکر اس سورۃ کریمہ میں بیان فرمایا گیا ہے جس کی کچھ تلاوت میں نے آپ کے سامنے کی ہے اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی غلامی اور اس بلند تر آقا کی غلامی کا حق آپ کو عطا ہو گا جس کی غلامی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سب کچھ پایا۔ حضرت رسول اکرم ﷺ کی اس شان کے حق میں گواہی دیتے ہوئے کہ آپ نے جب بلایا تو پہلے پایا پھر بلایا۔ صلى الله آپ فرماتے ہیں ۔ آنکھ اس کی دُور ہیں ہے دل یار سے قریں ہے ہاتھوں میں شمع دیں ہے عین الضیاء یہی ہے (درثمین صفحہ: ۸۳) آنکھ اس کی دور میں ہے، دور کی باتیں دیکھتا ہے ، افق اعلیٰ پر نظر ہے مگر دل یار کے قریں