خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 387
خطبات طاہر جلدا 387 خطبه جمعه ۱۵ جون ۱۹۹۲ء شدید مخالف عرب کو پہنچایا تھا اور پھر ان کی وساطت سے باقی دنیا کو پہنچایا اور اس سختی کے ساتھ آٹھ صدیوں تک رد کیا جائے کہ ساری قوم کلیہ اس سے نابلد رہے، یہ ہو نہیں سکتا کوئی بنیادی دینی خرابیاں ان لوگوں میں پیدا ہو چکی ہوں گی جس کے نتیجہ میں وہ دنیا کی عظمتوں کے سامنے ہی سرنگوں ہو گئے اور اسلام کو ظاہری زینت کا سبب تو بنالیا لیکن دلوں میں انقلاب بر پا کرنے کے لئے اسے استعمال نہیں کیا گیا۔ اس نقطہ نگاہ سے جب میں نے اندلس کے محلات کو اس دفعہ دیکھا تو مجھے یہ دیکھ کر بہت ہی گہری تکلیف پہنچی کہ ایک طرف ہم اس بات کی لذت محسوس کرتے ہیں کہ ان محلات کو سجانے والوں نے نہایت ہی اعلیٰ فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، نہایت باریک فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے قرآن کریم کی آیت کو قلعہ پر لکھوکھہا بار کندہ کیا ہے اتنی بار کندہ کیا ہے کہ لکھوکھہا کہنا ہرگز مبالغہ نہیں ہو سکتا ہے ان تمام محلات میں جس طرح بار بار قرآن کریم کی آیات بھی اور لا غالب الاللہ اور اسی قسم کے دوسرے کلمات کندہ کئے گئے ہیں اگر یہ نقوش ایک کروڑ سے زائد بنیں تو ہرگز بعید از عقل نہیں ہیں ممکن ہے کئی کروڑ تک یہ بات پہنچ جائے کیونکہ صرف غرناطہ میں نہیں اور غرناطہ کے الخضراء میں ہی نہیں بلکہ دوسرے محلات میں بھی ہر جگہ اس فن کو دہرایا گیا ہے۔ مسجد قرطبہ میں بھی جا کر آپ دیکھیں ، مسلمانوں کے جو دیگر قلعے ہیں ان سب میں قرآنی آیات کو اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور حمد کے بعض کلمات کو اس خوبصورتی سے کندہ کیا گیا ہے کہ سات آٹھ سو سال گزرنے کے بعد بھی اب تک وہ اسی طرح موجود ہیں۔ ان میں سے ہر ایک کو تو سات آٹھ سو سال نہیں گزرے لیکن بعضوں کو پانچ سو سال گزرے ہیں۔ بعضوں کو سات سو سال یعنی آخری دفعہ جب مسلمانوں کو نکالا گیا ہے تو وہ ۱۴۹۲ء میں نکالا گیا تھا اس کے بعد دو سو سال تک یعنی ۹۲ - ۱۶۹۰ء تک کچھ آثار باقی رہے پھر مٹا دیئے گئے تو یہ عرصہ اور اس سے پہلے جو عرصے ہیں مثلا عبد الرحمن ثالث جنہوں نے اس فن کو فروغ دیا ہے اور سپین میں دنیاوی طور پر جو سب سے زیادہ عظمتیں حاصل کی گئی ہیں وہ ان کے دور میں یعنی عبدالرحمن ثالث کے دور میں حاصل کی گئی ہیں۔ یہ دور دسویں صدی کے آخر اور گیارہویں صدی کے آغاز سے تعلق رکھتا ہے تو اس زمانہ کی تحریریں بھی اس طرح چمک رہی ہیں ۔ پس پندرہ سو سال پہلے کی ہوں یا سات آٹھ سو سال پہلے کی تحریریں ہوں بالکل یوں لگتا ہے کہ جیسے انہیں آج نقش کیا گیا ہے۔ میں یہ سوچتا رہا کہ انسان ظاہری طور پر استقرار کو دیکھ کر واقعہ کتنا مرعوب ہو جاتا ہے اور