خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 386
خطبات طاہر جلدا 386 خطبه جمعه ۱۵ جون ۱۹۹۲ء اگر آپ اسلام کی عظمت ان حکومتوں عظمت ان حکومتوں میں سمجھیں جو غیر ملکوں پر قائم کی گئیں تو اس لحاظ اس لحاظ سے ہر وہ ملک جس نے مسلمان ممالک پر قبضہ کیا ہے اس کی عظمت کے بھی گیت گانے چاہئیں انہوں نے بھی دوسری زمینوں پر جا کر مسلمان ممالک پر قبضے کئے تو کیا ان کا حق نہیں ہے کہ وہ عیسائیت کی عظمت کے گیت گائیں اور وہاں سے عیسائیوں کے نکل جانے پر کف افسوس ملیں اور دکھ محسوس کریں ۔ اس سوچ میں کچھ ٹیڑھاپن ہے، کچھ غیر اسلامی سی بات پائی جاتی ہے وہ لوگ جو کسی ملک کے باشندے ہیں ان کا حق ہے کہ وہ غیر قوموں کو جوان پر مسلط ہو جائیں ان کو اپنے ملک سے باہر نکالیں اگر ہندوستان کا یہ حق تھا کہ وہ انگریز کو باہر نکالے، اگر پاکستانی کا حق یہ تھا کہ انگریز کو باہر نکالے، اگر دنیا کی دوسری نو آبادیات اور کالونیز کا ، سب کا یہ حق تھا جیسا کہ ہے چین کا حق تھا افریقہ کے تمام ممالک کا حق تھا کہ وہ غیر قوموں کو اپنی سرزمین سے باہر نکالیں تو یہ سوال ذہن میں اُٹھتا ہے کہ اہل سپین کا کیوں حق نہیں تھا کہ وہ مسلمانوں کو جو غیر قوموں سے تعلق رکھنے والے تھے اور وہاں بزور شمشیر مسلط ہوئے ان کو اپنی سرزمین سے باہر نکال دیں ۔ تو اگر آپ نے اپنی سوچ کی راہیں Nationalism کی راہیں بنا لیں۔ اگر آپ نے قومیت کے تصور سے متاثر ہو کر اپنے آپ کو ایک قوم کے طور پر سمجھا اور ان کھنڈرات پر ایک قوم کے نقصان کے طور پر آنسو بہائے تو یہ سب جھوٹ ہے اور بے معنی ہے اور بے حقیقت ہے اور انصاف کے تقاضے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس قسم کی سوچوں کو بالکل ترک کر دیا جائے ۔ دوسری ایک اور سوچ ہے وہ یہ ہے کہ اسلام اس ملک میں سات آٹھ سو سال تک رہا ہے لیکن کتنی بڑی بدنصیبی ہے کہ ظاہری طور پر اتنی عظیم عمارتیں بنانے کے باوجود جن کی عظمت ، شان اور شوکت آج بھی دنیا کی ترقی یافتہ قوموں کو بھی متاثر کئے بغیر نہیں رہ سکتی ۔ وہ اس طرح وہاں سے حرف غلط کی طرح مٹ گئے اور ہمیشہ کے لئے باطل کر کے نکال دیئے گئے کہ ان کے مذہب ان کی تہذیب کے کوئی نشانات وہاں دکھائی نہیں دیتے ۔ سارا سپین کٹڑ کیتھولک عیسائی بن گیا اور مسلمانوں کا بطور مسلمان وہاں سے نام و نشان مٹا دیا گیا یہ واقعہ آناً فانا نہیں ہوا۔ اسلام کو مٹاتے ہوئے اور مسلمانوں کو وہاں سے نکالتے ہوئے ان کو تقریباً دو سو سال لگے۔ سوال یہ ہے کہ سات آٹھ سو سال میں ان فاتح قوموں نے اسلام کو وہاں نافذ کرنے کے لئے کیا کیا ؟ کیا یہ ممکن ہے اور عقلاً انسان اس بات کو تسلیم کر سکتا ہے کہ اسلام کا پیغام اس طرح پہنچایا جائے جس طرح حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے ایک