خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 227
خطبات طاہر جلدا 227 خطبه جمعه ۲۷ مارچ ۱۹۹۲ء کیفیتوں کو مزید تقویت ملی لیکن بچے بعض دفعہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ جی ہم نے لیلۃ القدر دیکھ لی۔ اتفاق سے موسم ایسا تھا کہ رات بجلیاں چمکیں اور روشنی کھڑکی کے راستے کمرے میں داخل ہوئی اور بچوں نے سمجھ لیا کہ جی ہم نے لیلۃ القدر دیکھ لی ۔ ان کا شغل ٹھیک تھا ، نیکی کی خاطر یہ بچپن کی باتیں تھیں مگر بڑوں کو بچپن کی یہ باتیں زیب نہیں دیتیں کیونکہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ کا ساری زندگی سے تعلق ہے۔ اگر آپ یہ سمجھتے رہیں کہ آپ کو یہ مبارک لمحہ نصیب ہو گیا ہے اور زندگی تاریک ہے تو کتنا بڑا دھو کہ ہے۔ اس کی قطعی نشانی یہ ہے کہ انسان کے اندر ایک ایسی پاک تبدیلی پیدا ہو کہ اس کا ماضی اس کے مستقبل سے جدا ہو جائے ۔ اس کے اندر ایک نیا وجود پیدا ہو اور اس وجود کی روشنی پھر ہمیشہ بڑھتی رہے گی کیونکہ ایک ہی آن میں نہ اُسے کامل طور پر قرآن کریم کا نور نصیب ہوس ہو سکتا ہے نہ حضرت محمد مصطفی اللہ کے نور سے اس کا کامل تعلق پیدا ہو سکتا ہے۔ پھر یہ کون سا نور ہے جس کی میں بات کر رہا ہوں ۔ یہ نور قدر کا نور ہے، فیصلے کا نور ہے۔ خدا تعالیٰ کی طرف سے آسمان سے ایک فیصلہ اُترتا ہے اور دل کے نور سے تعلق قائم کرنے کے لئے دل کا فیصلہ بنتا ہے۔ یہ دونور ہیں جو ملائے جاتے ہیں اور یہی وہ نور ہیں جن کو قرآن کریم نُورٌ عَلَى نُورٍ (النور: ۳۶) کہہ کر بیان فرماتا ہے۔ محمد مصطفی ﷺ پر جونور آسمان سے نازل ہوا تھا اس کا ذکر کرتے ہوئے صلى الله عل وسام اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ دل سے ایک شعلہ چپکا تھا اور ؟ اتھا اور پھر آسمان سے وہ نور اترا جسے محمد مصطفی صلی اللہ کا یا قرآن کا نور یا خدا کا نور کہا جاتا ہے۔ پس ایسا نور ہر دل سے ایک شعلے کی صورت میں اُٹھنا چاہئے ۔ یہ نو ر اُٹھے گا تو خدا کی طرف سے وہ نور نازل ہو گا اور یہ تقدیر ہے جو لَيْلَةُ الْقَدْرِ کی تقدیر سے تعلق رکھنے والی تقدیر ہے جو ہر انسان پر آسکتی ہے اور اگر وہ چاہے تو ہر انسان کے نصیب میں ہے۔ پس دعاؤں کے وقت اپنے اندر کوئی ایسی پاک تبدیلی پیدا کرنا جس کے بعد آپ دنیا کے نہ رہیں بلکہ خدا کے ہو جائیں اور پھر خدا تعالیٰ کی طرف سے قبولیت کی کچھ علامتیں مشاہدہ کرنا جو آپ کے دل کو ہلا کر رکھ دیں اور آپ کی موت کو زندگی کا ایک نیا پیغام دے دیں۔ وہ موت جو آپ نے خدا کی خاطر قبول کی تھی اُس موت کو زندگی میں تبدیل کریں اور خدا کی خاطر دنیا سے تعلق کاٹ کر توڑ کر دنیا کی روشنیوں سے منہ موڑ کر جب آپ نے اپنے لئے ایک قسم کا اندھیرا قبول کیا تو خدا تعالیٰ کا نازل ہونے والا نور اس اندھیرے کو یک