خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 226
خطبات طاہر جلداا 226 خطبه جمعه ۲۷ مارچ ۱۹۹۲ء قرآن کریم نے پوری دیں اور جس انسان کی ساری ضرورتیں پوری ہو جائیں اس کو کسی رات کا کیا ڈر رہتا ہے۔ یہی وہ قرآن ہے جو لَيْلَةُ یعنی اندھیروں کے زمانوں کو ایک دائمی روشنی کے زمانے میں صلى الله صلى الله صلى الله حضور اسی لحاظ سے خدا کا نور کہلائے تبدیل کرتا ہے اور آنحضرت ﷺ پر یہ کلام نازل ہوا آنحضور یعنی آپ میں اور کلام میں حقیقہ کوئی فرق نہیں رہا۔ جیسا کلام الہی تھا ویسے آپ بن گئے ۔ جن سانچوں صلى الله میں کلام الہی انسان کو ڈھالنا چاہتا ہے حضرت محمد مصطفی یا انہی سانچوں میں ڈھلتے چلے گئے ۔ کلام علیسه مجسم نور تھا۔ پس حضرت محمد مصطفی یہ بھی مجسم نور ہو گئے اور یہ وہ نور ہے جو لَيْلَةُ الْقَدْرِ کو عروسه صلى الله صلى الله ۔ دکھائی دینا چاہئے یعنی محمد مصطفی ﷺ کا نور، کلام الہی کا نور جو در حقیقت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ پس آپ اگر ایک ظاہری چمک کو ایک بجلی کی چمک کولیلۃ القدر سمجھ کر اپنی ذات میں خوش ہوتے رہیں تو آپ کی مرضی ہے جو چاہیں سوچیں اور جو چاہیں کریں لیکن وہ نور جو دل پر نازل نہیں ہوتا تو جیسا کہ میں نے کھول کر بیان کیا ہے قرآن کا نور اور محمد مصطفی ﷺ کا نور ہے وہ نو را گر آپ کو نصیب نہیں ہوتا تو ہزار بجلیاں آپ پر چمکتی رہیں آپ کے لئے یہ روشنی کا پیغام نہیں بلکہ ہلاکت کا پیغام لے کر آئیں گی آپ کو غلط فہمیوں میں مبتلا کرنے والی ہوں گی ، آپ دھوکوں میں مبتلا ہو جائیں گے نفس کے اندھیروں میں اور زیادہ ڈوب جائیں گے ۔ آپ سمجھیں گے کہ آپ اہل اللہ بن گئے ہیں ۔ اس رات ولی بن کر اُبھرے ہیں لیکن اگر دل نے یہ گواہی نہ دی کہ آپ پر کلام الہی کا نور نازل ہوا ہے ، آپ کے اندر ایک پاک تبدیلی کی گئی ہے اور محمد مصطفی یا عروسہ سے آپ کا ایک اٹوٹ رشتہ جوڑ دیا گیا ہے تب تک یہ ظاہری علامتیں کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتیں۔ ہاں اگر یہ نصیب ہو جائے تو اور پھر بعض اوقات اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے پیار اور محبت کے سلوک کے اظہار کے طور پر یہ ظاہری علامتیں بھی ظاہر فرماتا ہے۔ صلى الله قادیان میں بچپن کے زمانہ میں مجھے یاد ہے کہ لَيْلَةُ الْقَدْرِ کی راتوں کی صبح اکثر لوگ سوال کیا کرتے تھے کہ کچھ ظاہر ہوا لیکن بزرگ صحابہ، عارف باللہ لوگوں سے جب بھی یہ سوال کیا گیا ہے تو انہوں نے اپنی قلبی کیفیت کو نشان بتایا ہے اور ہمیشہ یہی کہا کرتے تھے کہ اللہ کے فضل کے ساتھ دل پر جو کیفیت طاری ہوئی ہے وہ ایک انشراح کی کیفیت تھی ، انبساط کی کیفیت تھی ، روحانی سرور کی کیفیت تھی اور اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے کچھ ظاہری نظارے ایسے بھی دکھائے جن سے اندرونی