خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 219
خطبات طاہر جلداا 219 خطبه جمعه ۲۷ مارچ ۱۹۹۲ء صلى الله اور تری سارے فساد سے بھر گئے تھے اس رات کو قدر کی رات کیوں قرار دیا گیا جو گناہوں اور ظلمات کے دنیا پر غیر معمولی طور پر چھا جانے اور اس کو مغلوب کرنے کی رات تھی اس لئے کہ قدر کی رات میں خدا نے آخر اس رات کی سن لی اور اس رات کو دن میں تبدیل کرنے والا سورج چڑھا دیا اور حضرت محمد مصطفی علی کی فجر ظاہر ہوئی۔ ان معنوں میں آنحضور ﷺ فجر بن کر دنیائے معصیت پر طلوع ہوئے اور جس نے بھی آنحضور ﷺ کی روشنی کے حصول کے لئے اپنے کواڑ کھولے، اپنے روشندان کھول دیئے، اپنے دل کے دریچے کھول دیئے ، اس نے آنحضور ﷺ کے نور کو پالیا اور اس کے تمام اندھیرے روشنیوں میں بدل گئے ، جس نے اس نور کے سامنے آنے سے گریز کیا یا اس نور کی روشنی کے قبول کرنے میں اپنی ذات کے خلاف خساست سے کام لیا اور کنجوسی سے کام لیا کچھ کونوں پر پر دے ڈال رکھے اور کچھ حصے اس نور کے لئے پیش کر دیئیان کی حالت ملی جلی سی حالت ہے۔ آنحضور ﷺ کے فیض سے کسی حد تک فیضیاب ہوئے اور کچھ اندھیرے کونے باقی رکھ دیئے۔ ان سے کیا سلوک ہوگا اس کے متعلق قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو ان کی مغفرت فرمادے، چاہے تو ان کو پکڑلے ان کا معاملہ محفوظ معاملہ نہیں ہے اور ان کے لئے مقام خوف موجود ہے۔ صلى الله صلى الله صلى الله پس اس مقام خوف کو دور کرنے کے لئے یہ رات آتی ہے جو انفرادی پیغام بن کر آتی ہے۔ امت محمدیہ ﷺ میں بھاری تعداد ایسے انسانوں کی ہے جو مقام خوف پر موجود ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے نور کی پوری طرح قدر نہیں کر سکے، ان کی زندگی کے بہت سے گوشے اندھیرے ہیں، اُن کے بہت سے اخلاق تاریک اخلاق ہیں اور وہ ان اخلاق کے ذریعہ آنحضرت ﷺ کے نور کو منعکس نہیں کرتے بلکہ اپنی ذات کی تاریکیوں کو اخلاق کی شکل میں دنیا پر ظاہر کر رہے ہوتے ہیں۔ پس یہ ایک قسم کا ایک مجموعہ تضاد بن جاتا ہے۔ کچھ نور ہے جو حضور اکرم ﷺ کی نمائندگی میں ظاہر ہو رہا ہے اور کچھ اندھیرے ہیں جو اپنی ذات سے پھوٹ رہے ہیں۔ اس کیفیت میں مسلمانوں کی بھاری اکثریت مبتلا ہے۔ ان کے لئے صبح کیسے نازل ہو گی ، ان کے اندھیرے کس طرح روشنیوں میں تبدیل کئے جائیں گے۔ اس کے جواب کے طور پر ہمیں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ لیلۃ القدر ایک نعمت عطا ہوئی ہے اور یہ فرمایا گیا ہے کہ تم سارا سال جتنی کوشش کرتے ہو، ساری زندگی جتنی کوشش کرتے ہو اور تم ان کوششوں کے نتائج حاصل کرنے میں ناکام رہ جاتے ہو، تمہارے لئے مایوسی کی کوئی بات نہیں ، جس