خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 218 of 1004

خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 218

خطبات طاہر جلدا وسیع زمانہ پایا جائے گا۔ 218 خطبه جمعه ۲۷ مارچ ۱۹۹۲ء الله آنحضرت ﷺ کے پیغام کا اور قرآن کریم کا کسی ایک معین رات سے جو نہ ہار کے مقابل کی لیل ہو تعلق نہیں ہے بلکہ ایک ایسی وسیع رات سے تعلق ہے جس کے مقابل پر یوم آتا ہے اور جو وسیع زمانہ رکھتی ہے۔ افراد کو تو ایک رات کا ایک لمحہ نصیب ہو جائے تو ان کی زندگی بن جاتی ہے اور ان کی صلى الله زندگی کا مقصد پورا ہو جاتا۔ را ہو جاتا ہے مگر ر حضرت محمد ﷺ کی زندگی کا مقصد اس سے بہت زیادہ و ، زیادہ وسیع تھا اس لئے آپ کے اوپر لَيْلَةُ الْقَدْرِ کا مضمون اپنی پوری وسعت اور اپنی پوری شان کے ساتھ چسپاں ہو گا اور ہرگز اسے ایک عام انسان کے اوپر صادق آنے والے لَيْلَةُ الْقَدْرِ کے مضمون کے مساوی قرار نہیں دیا جا سکتا یا مشابہ بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ وہ معنی ہیں جن کی طرف حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے توجہ دلائی اور دکھوں میں صلى الله فرمایا کہ لیلہ سے مراد حضرت محمد ﷺ کی نسبت سے یہ بنتی ہے کہ سارا زمانہ معصیتوں اور د سلام کلیہ ڈوب چکا تھا۔ ایسی مصائب کی رات تھی ، ایسی گناہوں کے غیر معمولی طور پر بڑھ کر چھا جانے کی رات تھی گویا ظلمت ہر جگہ مسلط ہو چکی تھی۔ ان اندھیروں میں محمد مصطفی ﷺ کا نور چمہ کا اور یہ اس رات اصلى الله صلى الله کی فجر تھی یعنی حضرت محمد مصطفی ﷺ پر جو اللہ کا نور نازل ہوا ہے۔ یہ وہ نور ہے جس نے رات کی تقدیر لى الله بدلی اور حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ میں محمد مصطفی ﷺ کا طلوع مراد ہے اور اسی کی نسبت سے حضور صلى عروسه اکرم ﷺ کو سورج بیان فرمایا گیا ہے جبکہ دیگر انبیاء کو مختلف القابات ملے ہیں۔ سورج کا لفظ عروسة ۔ خصوصیت کے ساتھ حضرت محمد مصطفی ماہ کے لئے مقدر فرمایا گیا۔ اور اس میں یعنی خدا کے اس فیصلے صلى الله میں کہ حمد مصطفی ﷺ کو سورج بیان فرمایا گیا لیلَةُ الْقَدْرِ کے معنی اور فجر کے معنی مضمر ہیں۔ لیل کبھی نصف دنیا پر آتی ہے کبھی دوسری نصف دنیا پر آتی ہے اور سورج وہ ہے جو دونوں دنیاؤں کی قسمت بدل دیتا ہے، دونوں دنیاؤں کے اندھیروں کو باطل کر کے دن چڑھا دیتا ہے۔ صلى الله حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے جو عالمی انقلاب برپا فرمانا تھا اس کا تعلق زمین کے کسی ایک خطہ سے نہیں تھا بلکہ تمام کائنات پر جو رات چھا جانی تھی اور چھا چکی تھی۔ چھا جانے کے معنوں پر میں مزید روشنی ڈالوں گا جو رات چھا چکی تھی اس کا ذکر کرتے ہوئے میں اس مضمون کو شروع کرتا ہوں ۔ وہ ایسی رات تھی جس کے متعلق قرآن کریم فرماتا ہے کہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم : ۴۲) یعنی خشکی