خطبات طاہر (جلد 11۔ 1992ء) — Page 142
خطبات طاہر جلد اا 142 خطبه جمعه ۲۸ رفروری ۱۹۹۲ء سے خدا تعالیٰ کا ذکر کرو اور ذکر کیا کرو۔ وَسَبِّحُوهُ بُكْرَةً وَأَصِيلًا یہاں تک کہ سوتے جاگتے ، صبح و شام اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کیا کرو بُكْرَةً وَأَصِيلًا کا لفظی ترجمہ تو یہ ہے کہ صبح بھی اور شام بھی مگر محاورہ میں ہم جب صبح و شام کہتے ہیں تو جیسے اُردو میں دوام کا مفہوم پیدا ہو جاتا ہے ویسے عربی محاورہ میں بھی بُكْرَةً وَأَصِيلًا کا یہ مطلب نہیں کہ صبح کر لیا کرو اور پھر شام کو بلکہ دن رات صبح و شام خدا کی یاد کیا کرو اور تسبیح کیا کرو ۔ هُوَ الَّذِي يُصَلِّى عَلَيْكُمْ وَمَلَبِكَتُهُ ۔ یہ وہ خدا ہے، وہ اللہ ہے جو تم پر سلام بھیجتا ہے اور تم پر صلوٰۃ بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی اس کی متابعت میں ایسا ہی کرتے ہیں۔ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ تاکہ وہ تمہیں اندھیروں میں سے روشنی کی طرف نکال لائے وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا اور وہ مومنوں پر بہت ہی رحم کرنے والا ہے تَحِيَّتُهُمْ يَوْمَ يَلْقَوْنَهُ سَلم جس دن وہ اپنے رب سے ملیں گے تحفتہ ان کو سلام کہا جائے گا۔ وَ أَعَدَّ لَهُمْ أَجْرًا كَرِيمًا - اور اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے بہت ہی معزز اجر تیار فرما رکھا ہے۔ اے نبی ! إِنَّا أَرْسَلْتُكَ شَاهِدًا وَ مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا ہم نے تجھے شاہد بنا کر بھیجا اور مبشر بنا کر بھیجا اور نذیر بنا کر بھیجا یعنی ان قوموں پر جن کو تو مخاطب کر رہا ہے۔ ان پر بھی تجھے گواہ بنایا اور کیونکہ تو تمام عالمین کا پیامبر ہے اس لئے تمام عالمین پر تجھے گواہ بنا کر بھیجا گیا اور جیسا کہ قرآن کریم کی دوسری آیات سے ثابت ہے تمام انبیاء پر بھی حضرت اقدس محمد مصطف شاہد ہیں تو شاهِدًا کا مطلب یہ ہوگا کہ اے وہ نبی جسے ہم نے سب مخاطبین کے لئے صلى الله علی تمام جہانوں کے لئے اس زمانہ کے لئے اور اگلے زمانوں کے لئے بھی اور پہلے انبیاء کے لئے بھی اور آئندہ آنے والوں کے لئے بھی گواہ بنا کر بھیجا ہے ۔ وَ مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا اور خوشخبریاں دینے والا اور ڈرانے والا ۔ صلا گواہ سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو ان پر نگران مقرر فرمایا گیا ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ وہ جو پہلے گزر گئے اور وہ جو بعد میں آنے ہیں یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی اے کے صلى الله عليوسه وصال کے بعد جنہوں نے پیدا ہونا ہے اور وہ جو اُس زمانے میں تھے مگر اُن پر آنحضور ﷺ کی براه راست و است ذاتی نظر نہیں تھی اُن پر آپ کیسے گواہ ٹھہرے یا گواہ ٹھہریں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ گواہ سے مراد ایسی کسوٹی ہے جس پر کسی دوسرے کے اعمال اور سچائی کو پرکھا جاتا ہے ۔ گواہ جو گواہی