خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 970 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 970

خطبات طاہر جلد ۱۰ 970 خطبه جمعه ۱۳ دسمبر ۱۹۹۱ء بعد اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے کسی حد تک اصلاح ہوئی ہے لیکن ابھی بھی بعض دفعہ ایسی حرکت ہو جاتی ہے ۔ اطلاع کرنا تو بہت اچھا ہے اور ضروری ہے ۔ جب بھی کسی قسم کی کوئی مخدوش بات ظاہر ہو۔ قابل فکر صورت حال پیدا ہو تو لازماً مجھے اطلاع کرنی چاہئے لیکن اگر امیر کے علم میں بات آئے یا متعلقہ عہدیدار کے علم میں بات آئے اور وہ اطلاع کرے تو ساتھ یہ اطلاع بھی کرنی چاہئے کہ آپ مطمئن رہیں ہم اس سلسلہ میں یہ جوابی کارروائی کر رہے ہیں ۔ یا اس جوابی کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ جہاں تک اعتراضات کا تعلق ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب جماعت نے جوابات کا ایک بہت عمدہ سلسلہ طبع کرانا شروع کیا ہے ۔ وہ زیادہ تر پاکستان کے اور ہندوستان کے علماء کے اعتراضات کے جوابات پر مشتمل ہے لیکن انشاء اللہ تعالیٰ اسی سلسلہ کو عیسائیت اور دیگر مذاہب پر بھی ممتد کر دیا جائے گا اور جس طرف سے جو اعتراضات وارد ہوتے ہیں ان کے جوابات کے سلسلے انشاء اللہ تعالیٰ طبع ہو کر جماعت کی خدمت میں پیش کئے جائیں گے۔ لیکن میں واپس اس طرف لوٹتا ہوں کہ دعوت الی اللہ کے مرکز میں ایسار جسٹر ہونا ضروری ہے جس پر اس قسم کی کارروائیوں کا ندراج ہو اور پھر جوابی کارروائی کے متعلق نوٹ ہو کہ یہ کارروائی کی جا چکی ہے یا کی جارہی ہے۔ تا کہ ہر شخص وہاں جب بھی اس رجسٹر کو دیکھے تو اس کو معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت ایک مستعد اور بیدار جماعت ہے اور جس اعتراض کے سلسلہ میں بھی اس کو تلاش ہو وہ کارروائی میں معلوم کر سکے کہ یہ جوابی کارروائی ہو چکی ہے یا ہورہی ہے۔ ایک رجسٹر شکایات کا بھی موجود ہونا چاہئے ۔ جہاں انتظامات کے خلاف یا کتابوں میں غلطی کے متعلق شکایات ہوں تو وہ درج ہونی چاہئیں اور اس کے متعلق بھی جو جوابی کارروائی ہے یا اصلاحی کارروائی ہے اس کا اندراج ہو۔ بعض دفعہ بعض دوست سلسلہ کے طبع شدہ لٹریچر میں کوئی غلطی نکالتے ہیں یا محسوس کرتے ہیں کہ فلاں بات غلط ہو گئی ہے تو اگر وہ مجھے لکھ دیں تو فوری طور پر متعلقہ شعبہ کو متوجہ کر کے پوری طرح تسلی کر لی جاتی ہے کہ آئندہ ایڈیشن میں اس کی اصلاح کرلی جائے گی لیکن بسا اوقات بعض دوست مجھے نہیں لکھتے اور اپنے مقامی امیر کو یا کسی عہد یدار کو متوجہ کرا دیتے ہیں اور بات وہاں ختم ہو جاتی ہے۔ اس کا مجھے اس لئے علم ہے کہ بعض لکھنے والوں نے یعنی ایسی شکایات