خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 969 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 969

خطبات طاہر جلد ۱۰ 969 خطبه جمعه ۱۳ دسمبر ۱۹۹۱ء الگ سیکرٹری نہیں ہے لیکن اگر الگ سیکرٹری مقرر ہو گیا ہو تو اس کی تصحیح کر لی جائے۔ بہر حال اول طور پر یہ کام اصلاح وارشاد کے سیکرٹری کا ہے اور اس کے ساتھ اگر سیکرٹری اشاعت ہے تو اس کا بھی یہ کام ہے اور اگر الگ سیکرٹری دعوت الی اللہ ہے تو اس کا بھی یہ کام ہے۔ ان تینوں میں سے جس کو بھی پہلے ہ ہے ۔ ان تینوں میں سے جس کو بھی پہلے دعوت الی اللہ ہے تو اسکا بھی یہ کام ہے۔ ان تینوں میں ہے جس کو جو معلوم ہو کہ فلاں قسم کا مخالفانہ حملہ شروع ہو چکا ہے تو اس کا اولین فرض ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے ساتھیوں کو بھی مطلع کرے، امیر کو مطلع کرے اور جوابی کارروائی کے لئے فوری طور پر پہلے تحقیق شروع کی جائے اور تحقیق کے بعد یہ فیصلہ کیا جائے کہ کسی پرانے شائع شدہ رسالہ کو جواباً شائع کرنے کی ضرورت ہے یا نیا رسالہ لکھنے کی ضرورت ہے۔ اس تیزی سے اس کے متعلق کا روائی ہونی چاہئے کہ جیسے بجلی کی سرعت سے کام کیا جاتا ہے۔ ورنہ بعض دفعہ مہینوں ، بعض دفعہ سالوں جماعت کی مخالفانہ کارروائیوں کا علم رکھنے کے باوجود جوابی کارروائی نہیں ہو رہی ہوتی اور ایک قسم کا انجما دسا پایا جاتا ہے، بے حسی سی پائی جاتی ہے۔ اس طرح تو دعوت الی اللہ کے کام نہیں چل سکتے ۔ ایسا تیزی سے رد عمل ہونا چاہئے جیسے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام دکھایا کرتے تھے۔ اس زمانہ میں آپ اکیلے تھے۔ کوئی مد و معاون کوئی مددگار نہیں تھا جب آپ نے کام کا آغاز کیا ہے اور مامور ہونے سے پہلے سے آپ کے دل کی کیفیت یہ تھی کہ اسلام پر حملہ ہو سہی شدید بے تاب ہو جاتے تھے اور فوراً جوابی کارروائی کرتے تھے۔ بعض دفعہ بعض رسالوں کے جواب آپ نے راتوں رات بیٹھ کر لکھے اور ان کو ایک یا دو راتوں میں ہی تیار کر کے اس مضمون کو شائع کروا دیا۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بھی یہی کیفیت تھی۔ تو اس زمانے میں مدد گار نسبتا کم تھے۔ لیکن جو بھی تھے وہ والہا نہ جذبے رکھتے تھے اور چونکہ احساس بہت شدید تھا اور دین کی غیرت اور دین کی محبت ایک بہت بلند مقام پر فائز تھی اس لئے یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ اسلام کے خلاف کوئی کارروائی ہوا اور اس کے جواب میں فوری کارروائی رونما نہ ہو۔ اب یہ جو کیفیت میں دیکھ رہا ہوں اس کی وجہ سے مجھے تکلیف پہنچتی ہے اور حیرت بھی ہوتی ہے کہ یہ کیوں سمجھا جاتا ہے کہ مجھے ان باتوں کی صرف اطلاع کر دینا کافی ہے۔ بعض دفعہ ربوہ سے بھی صدرانجمن کے کارکنوں کی طرف سے بھی ایسی غلطی ہوتی ہے کہ اطلاع کر دیتے ہیں اور آگے یہ بھی نہیں لکھتے کہ اس کے جواب میں ہم نے کیا کارروائی کی ہے۔ بار باران کو لکھ کر اور سمجھانے کے