خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 945 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 945

خطبات طاہر جلد ۱۰ 945 خطبه جمعه ۱۶ دسمبر ۱۹۹۱ء کامل بریت چاہتے تھے کہ ہمیشہ ہمیش کے لئے ان لوگوں کا نام عزت اور رحمت کے ساتھ یاد کیا جائے بجائے اس کے کہ ایک ایسے داغ دار شخص کے طور پر ایسے داغ دار اشخاص کے طور پر جن کے اوپر داغ تو سچا لگا لیکن نہیں کہا جا سکتا کہ کامل طور پر دھل گیا تھا کہ نہیں ۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ آنحضرت نے گنہگار سمجھتے ہوئے بھی اپنی رحمت اور مغفرت کے جذبے سے ان کو معاف کیا ہے یا اس گناہ کے داغ کو دھو ڈالا ہے یا کالعدم سمجھا ہے۔ جب خدا خدا کی طرف سے وحی نازل ہوئی تو اس میں یہ شائبے باقی نہیں تھے۔ ان شائبوں کا کوئی امکان بھی نہیں تھا۔ خدا تعالیٰ نے دلوں پر نظر رکھی اور یہ اعلان فرما دیا ہمیشہ کے لئے کہ ان کو معاف کیا جاتا ہے ان کے دل صاف ہو گئے ہیں ۔ التائب من الذنب كمن لا ذنب له حوالي ۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ شخص جو گناہ سے سچی توبہ کرتا ہے اس کے متعلق ارشاد ہے کہ وہ ایسا ہی ہے جیسے اس نے کبھی گناہ نہ کیا ہو۔ پس اس پہلو کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ آنحضرت ملالہ کی بخشش بعض دفعہ خدا تعالیٰ کی بخشش کے لئے ایک دعا بن جایا کرتی تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ عرصہ جو آنحضرت نے اس تکلیف میں گزارہ ہے کہ دل چاہتا تھا کہ معاف فرمادیں لیکن خدا پر معاملہ چھوڑ چکے تھے اور وہ عرصہ مسلسل ان لوگوں کے لئے دعا بنا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف فرما دیا اور تاریخی لحاظ سے وہ ہمیشہ کی زندگی پاگئے ۔ اس سلسلے میں ان کے اپنے دل کی بھی یہی کیفیت تھی۔ چنانچہ حضرت کعب روایت کرتے ہیں کہ جب مجھے پتا چلا تو لوگ آنحضرت ﷺ سے صبح کے نماز کے وقت معافی کی خبر سن کر ان کی طرف دوڑے جا رہے تھے کہ ان کو اطلاع کریں لیکن کسی بلند آواز والے نے زیادہ حکمت اور ہوشیاری سے کام لیا۔ ایک پہاڑی کی چوٹی پر چڑھ کر اس نے بلند آواز سے یہ کہنا شروع کیا کہ اے فلاں اور فلاں اور اے فلاں اور فلاں خدا کے رسول نے تمہاری معافی کا اعلان کر دیا ہے۔ کہتے ہیں یہ ایسی عظیم آواز تھی کہ کبھی زندگی میں پھر کسی اور آواز نے ایسا دل پر اثر نہیں کیا۔ پیشتر اس سے پیامبر پہنچتے یہ دوڑے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضری دینے کے لئے اور حاضر ہو کر یہ سوال کیا ہے کہ یا رسول اللہ ! آپ نے معاف کیا ہے یا خدا نے معاف کیا ہے؟ آپ کی طرف سے ہماری بخشش ہوئی ہے یا اللہ کی وحی نازل ہوئی ہے۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ خدا کی وحی نازل ہوئی ہے، خدا کی طرف سے معافی ہوئی ہے۔ کہتے ہیں اس وقت میرا دل صلى الله صلى الله