خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 944 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 944

خطبات طاہر جلد ۱۰ 944 خطبه جمعه ۶ / دسمبر ۱۹۹۱ء صلى الله عليه تھے۔ بہانہ بنا کر یا بات کو توڑ مروڑ کے وہ وقتی طور طور پر آنحضور ﷺ کی ناراضگی سے بچ سکتے تھے مگر انہوں نے سچائی کو قربان نہیں کیا ، صاف گوئی سے کام لیا اور اس ناراضگی کو قبول کر لیا جس کے بعد ان کی زندگی ایک لمبے عرصے تک جہنم کا نمونہ بنی رہی ۔ یعنی اذیت کے لحاظ سے جہنم کا نمونہ ویسے تو ان کے لئے ایک روحانی جنت تیار کرنے والی زندگی تھی۔ اس پر آنحضرت ﷺ نے انتظار فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کب ان کی بخشش کا اعلان ہوتا ہے اور اس انتظار فرمانے میں ایک بہت بڑی حکمت پوشیدہ تھی ۔ ایک سے زائد حکمتیں پوشیدہ تھیں مگر ایک خصوصیت کے ساتھ ایسی حکمت ہے جس کا میں جماعت کے سامنے ذکر کرنا چاہتا ہوں ۔ اوّل یہ کہ آنحضرت ﷺ اس عرصے میں خود ان کے لئے بے حد دکھ محسوس کر رہے تھے اور بار بار کن اکھیوں سے ان لوگوں کو دیکھتے بھی تھے اور ان آنکھوں میں کبھی بھی ان لوگوں نے نفرت نہیں دیکھی جن کے لئے سزا کا اعلان تھا بلکہ ہمیشہ محبت دیکھی۔ حضرت کعب روایت کرتے ہیں کہ میں تو ان آنکھوں کے سہارے زندہ تھا جو کبھی کبھی میری طرف اٹھتی تھیں ۔ جب بھی میں نے ان کو دیکھا ان میں میں نے محبت دیکھی کبھی ایک دن بھی نفرت نہیں دیکھی اور وہی محبت کے صدقے تھے جو میری زندگی کا سہارا بنے ہوئے تھے۔ (بخاری) تو آنحضرت کا ایک عظیم کردار اس دور میں ظاہر ہوا کہ آپ فیصلے اپنے ذاتی خیالات اور رجحانات کی بناء پر نہیں کرتے بلکہ کلیہ رضاء باری تعالیٰ کی خاطر کرتے ہیں ورنہ اتنی دیر خود کیوں اذیت محسوس کرتے رہے اور کیوں ان کو اس سے پہلے معاف نہ فرمادیا کہ اللہ تعالیٰ کی وحی نازل ہو۔ صلى دوسرا یہ کہ آنحضرت ﷺ کی معافی کے نتیجے میں ان لوگوں کی ہمیشہ کے لئے ایسی بریت نہیں ہو سکتی تھی جیسا کہ وحی الہی کے نتیجے میں ان کی بریت ہوئی کیونکہ آنحضرت ﷺ کی ناراضگی ایک عام آدمی کی ناراضگی نہیں تھی ، عام بزرگوں والی ناراضگی بھی نہیں تھی ، خلفاء والی ناراضگی بھی نہیں تھی۔ آپ خلیفہ اللہ تھے اور آپ کی ناراضگی اس شخص کے لئے جس سے آپ ناراض ہوں دنیا اور آخرت کی ہمیشہ کے لئے ہلاکت کا موجب بن سکتی تھی۔ اللہ تعالی کی دلوں پر نظر ہے اور انبیاء کی بھی براہ راست اس طرح دلوں پر نہیں ہوتی جیسے خدا تعالیٰ کی نظر ہوتی ہے۔ انبیاء کی فراست عام انسانوں کی فراست سے بہت زیادہ روشن اور لطیف ہوتی ہے اس کے باوجود وہ دلوں کا کلیہ حال نہیں جانتے ۔ پس خدا تعالیٰ کی طرف سے اعلان کا انتظار فرمانا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ ان کی ایسی