خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 794 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 794

خطبات طاہر جلد ۱۰ 794 خطبه جمعه ۴ را کتوبر ۱۹۹۱ء ہے ۔ اس سے پہلے کبھی یہ آواز نہیں اٹھی تھی لیکن آگے جا کر میں اس معاملے پر مزید روشنی ڈالوں گا۔ سوال صرف یہ ہے کہ وہ کونسا بجٹ تھا ؟ واقعہ جب میں نے تحقیق کرائی تو جتنے اخراجات مالمو کے اٹھتے آئے ہیں وہ ہیڈ کوارٹر یعنی گوٹن برگ میں جو مرکز قائم ہے اس کی طرف سے ادا ہوتے رہے ہیں کبھی طرف سے ادا ہوتے رہے ہیں جی کوئی شکایت نہیں ہوئی کہ انہوں نے کوئی جائز خرچ کیا ہو ، بجٹ کے اندر خرچ کیا ہو جو ان کو ادا نہ کیا گیا ہو اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ یہ اپنی مالی قربانی میں باقیوں سے بہت بڑھ کر ہیں اور ان پر کم خرچ ہو رہا ہے اس کے متعلق میں آگے جا کر بات کرتا ہوں ۔ ۵- پھر یہ بے باکی میں یہاں تک آگے بڑھے ہیں کہ وہ ذیلی تنظیمیں جن کا مجلس عاملہ مالمو سے کیا مجلس عاملہ سویڈن سے بھی کوئی تعلق نہیں ۔ خدام الاحمدیہ ، لجنہ اماء اللہ اور انصار اللہ کی مجالس اپنے الگ بحث بناتی ہیں ان کی الگ مجلس شوری ہوتی ہے۔ ان کے معاملات نیشنل مجلس عاملہ میں زیر بحث آہی نہیں سکتے ۔ اگر کوئی شکایت پیدا ہوتی ہے تو امیر کے تابع ہیں ۔ امیر کا کام ہے کہ مجھے بتائے کیا خطرناک باتیں ہو رہی ہیں اور کیا نہیں ہور ہیں اور بالعموم جہاں تک میرا علم ہے کہ خدا کے فضل سے دنیا بھر میں بڑی عمدگی کے ساتھ یہ نظام جاری ہے ۔ جب یہ بات آگے بڑھنی شروع ہو جائے تو پھر منہ کھلتے چلے جاتے ہیں۔ _ 14/01/90 کے اجلاس میں ایک فیصلہ یہ بھی تھا کہ ذیلی تنظیموں کے چندہ کا لوکل حصہان کو ملنا چاہئے اب مجلس عاملہ مالمو سے اس کا کیا تعلق ہے۔ یہ اعتراض بنایا گیا کہ میں جب دورے پر گیا ہوں تو میں نے ان کے ساتھ مل کر اجتماعی کھانا نہیں کھایا اور اس پر حملے کا نشانہ ملک کے امیر کو بنا دیا گیا اور یہ بحث مجلس عاملہ میں ہوئی کہ گویا میں تو تیار بیٹھا تھا ۔ ملک کے امیر نے عمداً اس رنگ میں غلط طور پر ان کی درخواست پیش کی کہ میں اس کو رد کرنے پر مجبور ہو گیا یعنی دماغ کا ایسا Twist ہے ایسا ٹیڑھا پن ہے کہ آدمی کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ نہ امیر سے پوچھا کہ آپ نے کیا پیش کیا تھا کیوں رد ہوا۔ نہ مجھ سے پوچھا میں وہاں گیا ہوں اور بات نہیں کی اور جب سب واقعات گزر گئے تو وہاں آخری مجلس عاملہ میں یہ بحث اٹھا دی کہ دیکھو امیر تمہارا کیسا دشمن ہے کہ وہاں تو دعوت ہوئی لیکن یہاں نہیں ہوئی۔ واقعہ یہ ہے کہ جب امیر صاحب نے مجھ سے درخواست کی دونوں جگہ کے لئے مالمو اور