خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 793 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 793

خطبات طاہر جلد ۱۰ 793 خطبه جمعه ۴ را کتوبر ۱۹۹۱ء ایسی پاکیزہ تربیت فرمائی ہے کہ یہاں تک فرمایا کہ اگر کوئی شخص کسی شخص کو تحفہ دے دے اور پھر اس سے واپس مانگے تو یہ ایسی ہی بات ہے جیسے قے الٹ کر پھر اسے خود نگل جائے اور چاٹ جائے (مسلم باب) یہ مثال بہت ہی عظیم مثال ہے کیونکہ عقل سے عاری جانور جن کو پتہ نہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں وہ بعض دفعہ ایسا کیا کرتے ہیں ۔ گندی غلیظ قے کی ہے اور پھر اس کے بعد اس کو چاٹ گئے ۔ اب تحفے سے ایسا سلوک کرنا کہ گویا وہ واپس مانگا جا سکتا ہے اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ پاک تھا ہی نہیں ۔ یہ وہ مصلحت ہے جو میں آپ کو سمجھانی چاہتا ہوں جب میں نے کہا یہ گندہ پیسہ اس میں صلى الله نہیں آئے گا تو کوئی غصے کا فتوی نہیں ہے بلکہ حضرت اقدس محمد مصطفی علیہ جو تمام حکمتوں کا سرچشمہ تھے ان کی ایک بہت ہی عظیم گہری نصیحت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ بات کہہ رہا ہوں ۔ جب آپ نے ایک عام انسان کے متعلق یہ فرمایا کہ جب تم اس کو تحفہ دیتے ہو اور پھر واپس لینے کا سوچتے ہو تو ایسی بات ہے جیسے قے کر کے اسے واپس لو تو وہ تحفہ تحفہ تھا ہی نہیں وہ ایک گندگی تھی جو کسی کی طرف بھیجی گئی تھی اور تم نے عملاً اس گندگی کو خود چاٹ لیا۔ تو اگر انسانوں سے معاملات میں ایسی اعلیٰ اخلاق کی تعلیم دی گئی ہے تو خدا کے معاملے میں تو بے انتہاء احتیاط کی ضرورت ہے۔ تبھی خدا تعالیٰ بار بار فرماتا ہے کہ تمہارے تحفوں میں سے کچھ بھی خدا کو نہیں پہنچتا۔ پاک اور پر خلوص نیتیں ، طیبات پہنچتے ہیں جن کا تقویٰ کے اعلیٰ مضامین سے تعلق ہے۔ دل کی خاص کیفیات سے تعلق ہے جو تقویٰ کے نتیجہ میں لہر در لہر پیدا ہوتی ہیں اور مالی قربانی میں تبدیل ہوتی رہتی ہیں ۔ وہ چیزیں ہیں جو خدا کو پہنچتی ہیں تو اور مالی ہیں۔ کو جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چیز کو قے قرار دے دیں تو میں کون ہوں کہ اسے مقدس مال سمجھ کے سلسلے کے مال میں شامل رکھوں اس لئے یہ قے جو ہے یہ تو واپس ہوگی اور میں نے اعلان کر دیا ہے کہ اس معاملہ میں کوئی عذر نہیں سنا جائے گا ۔ یہ رو پید ان کو واپس کیا جائے گا مشن جماعت کا ہے اس سے یہ لوگ استفادہ بہر حال کریں گے جب تک وہ مشن قائم رہے گا۔ ۴۔ آگے ایک مطالبہ ہے، سابقہ سالوں میں مالمو کے لئے جو بجٹ ہوتا تھا وہ چونکہ مالمو کو نہیں دیا گیا وہ اب واپس مالمو کو ملنا چاہئے ۔ اب وہ کونسا بجٹ ہوتا تھا جو مالم کو نہیں دیا گیا۔ یہ ایک ایسی فرضی بات ہے جس کا کوئی وجود ہی نہیں ۔ یہ فتنہ دوسال سے شروع ہوا ہے جب سے ایک خاص انسان وہاں امیر کے طور پر مقرر ہوا